پاکستان میں 4 کروڑ افراد کے کرپٹو اکاؤنٹس ریگولیشن کے بغیر کھلے ہیں، بلال بن ثاقب
چیئرمین پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی بلال بن ثاقب کا کہنا ہے کہ ملک میں تقریباً 4 کروڑ پاکستانیوں کے کرپٹو اکاؤنٹس موجود ہیں، جو کسی باقاعدہ ریگولیشن کے بغیر کھولے گئے، جبکہ حکومت ڈیجیٹل اثاثوں کو ریگولیٹ کرنے کے لیے پالیسی تشکیل دے رہی ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کابینہ سیکرٹریٹ کے اجلاس میں چیئرمین پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی بلال بن ثاقب نے کرپٹو کرنسی اور ڈیجیٹل اثاثوں کے حوالے سے اہم تفصیلات پیش کیں۔
بلال بن ثاقب نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں تقریباً 40 ملین یعنی 4 کروڑ افراد کے کرپٹو اکاؤنٹس موجود ہیں، تاہم یہ اکاؤنٹس کسی باقاعدہ ریگولیٹری نظام کے بغیر کھولے گئے۔ ان کے مطابق ملک میں کرپٹو صارفین کی بڑی تعداد موجود ہے اور اب اس شعبے کو ضابطہ کار کے تحت لانے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں بلاک چین ٹیکنالوجی کو مختلف مالیاتی معاملات میں استعمال کیا جا رہا ہے اور بعض ممالک میں بلاک چین کے ذریعے بانڈز بھی جاری کیے جا رہے ہیں۔ پاکستان بھی کرپٹو کرنسی اور ڈیجیٹل اثاثوں کے حوالے سے دنیا کے مختلف ممالک کے تجربات کا جائزہ لے رہا ہے۔
بلال بن ثاقب کے مطابق پاکستان دنیا کی تیسری یا چوتھی بڑی فری لانسر مارکیٹ ہے، جبکہ نوجوان تیزی سے ڈیجیٹل فنانس اور نئی ٹیکنالوجی کو سمجھ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بینکنگ نظام کے ذریعے کرپٹو کرنسی خریدی جائے گی تو اس لین دین کا ریکارڈ موجود ہوگا، جس سے مالیاتی سرگرمیوں کی نگرانی آسان ہوسکتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک نے کئی برس تک ڈیجیٹل اثاثوں کے حوالے سے پابندیاں عائد کر رکھی تھیں، تاہم اب ریگولیٹری فریم ورک کی تشکیل کے بعد متعلقہ اداروں کی جانب سے این او سی جاری کیے جا رہے ہیں۔ پاکستان میں ورچوئل اثاثہ آپریٹرز کو 5 ستمبر تک این او سی یا متعلقہ لائسنسنگ کے عمل کے لیے درخواست دینے کی مہلت دی گئی ہے، جبکہ دو این او سی جاری بھی کیے جا چکے ہیں۔
اجلاس میں سینیٹر سعدیہ عباسی نے سوال کیا کہ کرپٹو صارفین کو ٹیکس نیٹ میں کیوں نہیں لایا جا رہا۔ اس پر بلال بن ثاقب نے بتایا کہ کرپٹو کرنسی کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کے لیے پالیسی زیر غور ہے۔
سینیٹر دلاور خان نے سوال اٹھایا کہ اگر کوئی شخص کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کر کے نقصان اٹھاتا ہے تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا۔ حکام نے واضح کیا کہ ریاستی کرنسی اور ڈیجیٹل اثاثوں کی نوعیت مختلف ہے اور کرپٹو کے لیے ریگولیٹری نظام اسی تناظر میں تشکیل دیا جا رہا ہے۔
بلال بن ثاقب نے یہ بھی بتایا کہ ادارے کو 800 ملین روپے کا بجٹ دیا گیا تھا، جس میں سے صرف 8 فیصد خرچ ہوا جبکہ 92 فیصد بجٹ واپس کر دیا گیا۔
سیکریٹری کابینہ نے کہا کہ کرپٹو کرنسی کو ریاستی قواعد و ضوابط کے دائرے میں لانا ضروری ہے، تاہم اس شعبے سے ٹیکس حاصل کرنا واحد مقصد نہیں۔ اجلاس میں کرپٹو کرنسی کی قانونی، مالیاتی اور شرعی حیثیت پر بھی مختلف آرا سامنے آئیں۔






