پاکستان کا تیل کا درآمدی بل جولائی میں ساڑھے 3 کھرب روپے تک پہنچ گیا

پاکستان کا تیل کا درآمدی بل جولائی میں ساڑھے 3 کھرب روپے تک پہنچ گیا

پاکستان کا تیل کا درآمدی بل جولائی میں بڑھ کر 1.28 ارب ڈالر، یعنی تقریباً 3 کھرب 57 ارب 5 کروڑ روپے تک جا پہنچا، عالمی سطح پر بھی فوسل فیول درآمد کرنے والے ممالک کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا۔

پاکستان کے تیل کے درآمدی اخراجات میں جولائی کے دوران نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد ملک کا ماہانہ تیل کا درآمدی بل ساڑھے 3 کھرب روپے کے قریب پہنچ گیا۔

رپورٹ کے مطابق جولائی میں پاکستان نے تیل کی درآمد پر 1.28 ارب ڈالر خرچ کیے، جو پاکستانی کرنسی میں تقریباً 3 کھرب 57 ارب 5 کروڑ روپے بنتے ہیں۔ توانائی کی عالمی مارکیٹ میں قیمتوں اور خطے میں پیدا ہونے والی صورتحال کے باعث تیل درآمد کرنے والے ممالک کے مالی اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔

سینٹر فار ریسرچ آن انرجی اینڈ کلین ایئر کے مطابق ایران جنگ اور آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے بعد گزشتہ چھ ماہ کے دوران عالمی سطح پر فوسل فیول درآمد کرنے والے ممالک کو اضافی اخراجات کا سامنا کرنا پڑا۔

تحقیق کے مطابق عالمی سطح پر ان اضافی اخراجات کا مجموعی حجم تقریباً 330 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جو پاکستانی کرنسی میں تقریباً 92 کھرب 5 ارب 35 کروڑ روپے بنتا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق اس اضافی مالی بوجھ کا سب سے زیادہ اثر یورپی یونین پر پڑا، جسے تقریباً 78 ارب ڈالر کے اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑے۔

چین تقریباً 35 ارب ڈالر کے اضافی مالی بوجھ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا، جبکہ بھارت 22 ارب ڈالر کے اضافی اخراجات کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہا۔

دوسری جانب بھارت کے خام تیل کے درآمدی بل میں بھی 56 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ خام تیل کی عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور سپلائی روٹس میں رکاوٹوں نے تیل درآمد کرنے والی معیشتوں کے لیے مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔

پاکستان جیسے درآمدی توانائی پر انحصار کرنے والے ممالک کے لیے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ براہ راست درآمدی بل پر اثر انداز ہوتا ہے۔ تیل کی درآمد پر زیادہ زرمبادلہ خرچ ہونے سے ملک کے بیرونی کھاتے، روپے کی قدر اور مجموعی معاشی صورتحال پر بھی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور اہم سمندری راستوں میں رکاوٹ برقرار رہنے کی صورت میں توانائی کی قیمتوں اور درآمدی اخراجات میں مزید اتار چڑھاؤ دیکھا جا سکتا ہے۔

پاکستان کے لیے تیل کی قیمتوں میں اضافہ نہ صرف درآمدی بل بڑھاتا ہے بلکہ مقامی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں، ٹرانسپورٹ اور دیگر شعبوں کے اخراجات پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔

More News