پراجیکٹ کی منظوری میں سی ڈی اے کی غلطی شامل ہے، محسن نقوی

پراجیکٹ کی منظوری میں سی ڈی اے کی غلطی شامل ہے، محسن نقوی

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ کانسٹیٹیوشن ون پراجیکٹ کی منظوری کے معاملے میں کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کی غلطی بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس منصوبے سے متعلق معاملات کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور ذمہ داری کے تعین کے لیے تمام پہلوؤں کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔

محسن نقوی نے اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سی ڈی اے کے کردار کی نشاندہی کی اور کہا کہ پراجیکٹ کی منظوری میں ادارے کی غلطی شامل ہے۔ ان کے بیان کے بعد کانسٹیٹیوشن ون منصوبے کی منظوری اور اس سے متعلق انتظامی کارروائیوں پر توجہ مرکوز ہو گئی ہے۔

کانسٹیٹیوشن ون کا معاملہ عمارت کے قبضے اور مستقبل میں اس کے استعمال کے حوالے سے بھی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ وزیر داخلہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ حکومت کو عمارت کا قبضہ مل گیا ہے، جبکہ اسے فائیو اسٹار ہوٹل میں تبدیل کرنے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے۔

اس منصوبے کی منظوری میں سی ڈی اے کی غلطی سے متعلق بیان نے متعلقہ ادارے کی ذمہ داری اور منظوری کے طریقہ کار پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ تاہم محسن نقوی کے بیان میں غلطی کی نوعیت، منظوری کے عمل میں شامل مخصوص افسران یا ممکنہ قانونی کارروائی کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

سرکاری منصوبوں کی منظوری میں متعلقہ اداروں کی ذمہ داری اہم ہوتی ہے، کیونکہ منصوبے کے قانونی، تکنیکی اور انتظامی پہلوؤں کا جائزہ لینا انہی اداروں کے فرائض میں شامل ہے۔ کسی منصوبے کی منظوری کے وقت قواعد و ضوابط کی پابندی اور تمام ضروری تقاضوں کی تکمیل کو یقینی بنانا ضروری ہوتا ہے۔

اب اس معاملے میں سی ڈی اے کی جانب سے ممکنہ وضاحت اور حکومت کے آئندہ اقدامات اہم ہوں گے۔ مزید تفصیلات سامنے آنے کے بعد ہی واضح ہو سکے گا کہ منظوری کے عمل میں کس نوعیت کی غلطی ہوئی اور اس کے حوالے سے کیا کارروائی کی جائے گی۔

 

More News