پشاور حیات آباد ڈپٹی ڈائریکٹر فائرنگ کیس میں اہم پیش رفت، پولیس کا دو مشتبہ ملزمان کی شناخت کا دعویٰ

پشاور حیات آباد قتل کیس میں اہم پیش رفت، پولیس کا دو مشتبہ ملزمان کی شناخت کا دعویٰ

پشاور کے علاقے حیات آباد میں ڈپٹی ڈائریکٹر نادرا فہد خان کے قتل کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے دو مشتبہ افراد کی شناخت کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق قتل میں ملوث مشتبہ افراد کا ریکارڈ بھی حاصل کر لیا گیا ہے جبکہ ان کی نقل و حرکت سے متعلق مزید شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔

فہد خان، جو رکن قومی اسمبلی نور عالم خان کے بھانجے تھے، کے قتل کی تفتیش میں پولیس نے مختلف پہلوؤں پر کام تیز کر دیا ہے۔ تفتیشی ٹیموں نے جائے وقوعہ اور اطراف میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کا جائزہ لیا، جس کی مدد سے دو مشتبہ افراد کی موجودگی اور نقل و حرکت کا سراغ لگایا گیا۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج سے حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر مشتبہ افراد کی شناخت کے لیے اقدامات کیے گئے، جبکہ ان کا سابقہ ریکارڈ بھی اکٹھا کر لیا گیا ہے۔ تفتیشی حکام اب دستیاب معلومات اور شواہد کا مزید جائزہ لے رہے ہیں تاکہ قتل کے واقعے میں مشتبہ افراد کے ممکنہ کردار کا تعین کیا جا سکے۔

ذرائع کے مطابق پولیس کی جانب سے مشتبہ افراد کی گرفتاری کے لیے مزید اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں متعلقہ پولیس ٹیموں کو متحرک کیا گیا ہے جبکہ کیس کے مختلف پہلوؤں پر تحقیقات جاری ہیں۔ پولیس حکام کا مقصد مشتبہ افراد تک پہنچنے کے ساتھ ساتھ قتل کے محرکات اور واقعے سے جڑے دیگر حقائق بھی سامنے لانا ہے۔

پولیس سربراہ نے قتل کیس میں نامزد یا مشتبہ افراد کی گرفتاری اور تفتیشی عمل جلد مکمل کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ متعلقہ افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ دستیاب شواہد کی روشنی میں کارروائی آگے بڑھائی جائے اور تفتیش میں کسی قسم کی کوتاہی نہ برتی جائے۔

واضح رہے کہ حیات آباد میں فہد خان کے قتل کے بعد پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کی تھیں۔ اب سی سی ٹی وی فوٹیج سے دو مشتبہ افراد کی شناخت کے دعوے کو تفتیش میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

تاہم پولیس کی جانب سے تاحال مشتبہ افراد کی گرفتاری اور قتل میں ان کے کردار سے متعلق حتمی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔ کیس کی تفتیش جاری ہے اور مزید قانونی کارروائی متوقع ہے۔

More News