پشین میں خطاب: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے بیان پر تنقید، حقائق مسخ کرنے کا الزام

پشین میں خطاب: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے بیان پر تنقید، وضاحت کا مطالبہ

پشین:ویب ڈیسک

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے ضلع پشین کے دورے اور جلسے سے خطاب کے بعد سیاسی و سماجی حلقوں میں بحث چھڑ گئی ہے۔ مختلف حلقوں کی جانب سے ان کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تقریر میں حقائق کو مسخ کیا گیا اور حساس معاملات کو غیر ذمہ دارانہ انداز میں پیش کیا گیا۔

ناقدین کے مطابق حالیہ دنوں میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور اہلِ تشیع علمائے کرام کے درمیان ہونے والی ملاقات کو ایک مثبت اور تعمیری پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اس پیش رفت کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرنا معاشرتی ہم آہنگی کو متاثر کر سکتا ہے۔

افغانستان سے متعلق پاکستان کی پالیسی پر تبصرہ کرتے ہوئے مبصرین کا کہنا ہے کہ ریاستی مؤقف واضح ہے اور کارروائیاں صرف شدت پسند عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کی جاتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں قیمتی جانوں کے ضیاع کے باوجود اس حوالے سے واضح اور دوٹوک مؤقف سامنے نہیں آیا۔

تنقید کرنے والوں نے یہ بھی کہا کہ فرقہ واریت کو ہوا دینا اور قومی سلامتی کے معاملات کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرنا ملکی مفاد کے خلاف ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ریاستی اداروں کے خلاف بیانیہ تشکیل دینا اور عوام میں انتشار پیدا کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں ہونا چاہیے۔

ادھر صوبائی حکومت کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ ناقدین کے مطابق خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال، بے روزگاری، صحت اور تعلیم کے شعبوں کو درپیش مسائل تاحال حل طلب ہیں۔ ایسے میں دیگر صوبوں کے دورے اور بیانات کو اپنی کارکردگی سے توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ کے بیانات کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جا رہا ہے، اور ان کا مقصد عوامی مسائل کو اجاگر کرنا اور صوبوں کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں ضروری ہے کہ تمام سیاسی قیادت ذمہ دارانہ طرزِ عمل اختیار کرے، قومی یکجہتی کو مقدم رکھے اور ایسے بیانات سے گریز کرے جو کسی بھی قسم کی غلط فہمی یا انتشار کا سبب بن سکتے ہوں۔

More News