کبل خودکش دھماکا، سی ٹی ڈی کی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آگئی
پشاور: سوات کے علاقے کبل میں خودکش دھماکے سے متعلق محکمہ انسداد دہشت گردی کی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آگئی ہے، جس میں خودکش حملہ آور کی شناخت اور اس کے ممکنہ سہولت کاروں سے متعلق اہم انکشافات کیے گئے ہیں۔
تفتیشی حکام کے مطابق خودکش حملہ آور کا تعلق اپر دیر سے تھا اور وہ اس سے قبل بھی دہشت گردی کے مختلف واقعات میں ملوث رہا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ خودکش بمبار کے سرحد پار روابط اور نقل و حرکت سے متعلق بھی تحقیقات جاری ہیں۔ تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ حملہ آور 14 اکتوبر 2022 کو افغانستان گیا تھا اور 29 دسمبر 2022 کو واپس پاکستان پہنچا تھا۔
تفتیشی حکام کے مطابق کبل دھماکے کے محرکات، حملہ آور کے رابطوں اور ممکنہ سہولت کاروں کے بارے میں مزید شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔
واقعے کی تحقیقات کے دوران کئی مشتبہ افراد کو حراست میں بھی لیا گیا ہے، جن سے تفتیش جاری ہے۔ حکام کے مطابق حملے میں ملوث دیگر عناصر تک پہنچنے کے لیے تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کیا جا رہا ہے






