یو اے ای جانے اور وہاں مقیم پاکستانیوں کے لیے سوشل میڈیا اور پرائیویسی قوانین سے متعلق الرٹ جاری
بیورو آف ایمیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ اسلام آباد نے متحدہ عرب امارات جانے والے اور وہاں مقیم پاکستانی شہریوں کو سوشل میڈیا کے استعمال اور پرائیویسی قوانین سے متعلق اہم ہدایات جاری کردی ہیں۔
حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات میں کسی کی نجی زندگی میں مداخلت، اجازت کے بغیر تصاویر اور ویڈیوز بنانا یا ذاتی مواد سوشل میڈیا پر شیئر کرنا سنگین قانونی خلاف ورزی تصور کیا جاتا ہے۔ ایسی خلاف ورزیوں پر قید اور بھاری جرمانے عائد کیے جاسکتے ہیں۔
جاری کردہ الرٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ کسی بھی شخص کی اجازت کے بغیر اس کی تصاویر یا ویڈیوز بنانا اور انہیں سوشل میڈیا پر پھیلانا ممنوع ہے۔ اسی طرح کسی کی نجی گفتگو ریکارڈ کرنا یا اسے دوسروں کے ساتھ شیئر کرنا بھی قانونی کارروائی کا سبب بن سکتا ہے۔
ہدایت نامے کے مطابق حادثات میں زخمی ہونے والے افراد یا متاثرین کی تصاویر اور ویڈیوز آن لائن پوسٹ کرنا بھی قانون کی خلاف ورزی ہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ کسی کو نقصان پہنچانے کی نیت سے مواد شائع کرنے اور تصاویر یا ریکارڈنگز میں ردوبدل کرکے انہیں گمراہ کن انداز میں پیش کرنے پر بھی سخت کارروائی کی جاسکتی ہے۔
الرٹ میں ملازمت کے دوران حاصل ہونے والی خفیہ معلومات کی حفاظت پر بھی زور دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق میڈیکل ریکارڈ، بینکنگ معلومات اور دیگر ذاتی یا سرکاری نوعیت کے خفیہ ڈیٹا کو بغیر اجازت افشا کرنا یا استعمال کرنا سنگین جرم ہے۔
بیورو آف ایمیگریشن کے مطابق ان قوانین کی خلاف ورزی پر کم از کم چھ ماہ قید اور 20 ہزار سے 10 لاکھ درہم تک جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے، جبکہ تصاویر اور ویڈیوز میں غیر قانونی ردوبدل جیسی خلاف ورزیوں پر مزید سخت سزائیں بھی ہوسکتی ہیں۔
حکام نے متحدہ عرب امارات جانے والے پاکستانیوں اور وہاں مقیم شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا استعمال کرتے وقت مقامی قوانین کا خیال رکھیں، کسی کا نجی مواد بغیر اجازت شیئر نہ کریں اور ذاتی یا خفیہ معلومات کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔








