ماہرین نے گنج پن کے عام مرض کا مؤثر علاج دریافت کرنے کا دعویٰ کر دیا

نئی طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ جوڑوں کی تکلیف کے علاج میں استعمال ہونے والی ایک دوا مخصوص قسم کے گنج پن، ایلوسپیا اریا، کے مریضوں میں بالوں کی نشوونما بحال کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

گنج پن اور بالوں کے جھڑنے سے متاثر افراد کے لیے نئی طبی تحقیق نے امید کی ایک نئی کرن پیدا کر دی ہے۔ ایک تازہ تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایک عام دستیاب دوا کے ذریعے بالوں کے جھڑنے کی ایک مخصوص بیماری کا مؤثر علاج ممکن ہو سکتا ہے۔

جرنل JAMA Dermatology میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق upadacitinib نامی دوا ایلوسپیا اریا (Alopecia Areata) کے علاج میں مؤثر ثابت ہوئی ہے۔ یہ ایک ایسی بیماری ہے جس میں جسم کا مدافعتی نظام غلطی سے بالوں کی جڑوں کو نشانہ بناتا ہے، جس کے نتیجے میں سر یا جسم کے دیگر حصوں پر اچانک گول شکل میں بال جھڑنے لگتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق اس دوا کے اثرات جانچنے کے لیے دو بین الاقوامی کلینیکل ٹرائلز کیے گئے، جن میں شمالی امریکا، یورپ اور چین سے تعلق رکھنے والے ایسے مریض شامل تھے جن کے سر کے بیشتر حصے کے بال جھڑ چکے تھے۔

تحقیق میں شامل مریض اوسطاً 84 فیصد تک بالوں سے محروم ہو چکے تھے۔ ماہرین نے انہیں مختلف گروپس میں تقسیم کیا، جن میں بعض افراد کو روزانہ 15 ملی گرام جبکہ دوسرے گروپ کو 30 ملی گرام upadacitinib دی گئی، جبکہ تیسرے گروپ کو پلیسبو فراہم کیا گیا۔

محققین نے 24 ہفتوں تک مریضوں میں بالوں کی نشوونما کا جائزہ لیا۔ نتائج میں سامنے آیا کہ دوا استعمال کرنے والے مریضوں میں بالوں کی جڑوں پر اس کے نمایاں اثرات مرتب ہوئے اور بعض افراد میں بالوں کی نشوونما میں خاصی بہتری دیکھی گئی۔

ماہرین کے مطابق upadacitinib مدافعتی نظام کے مخصوص سگنلز کو بلاک کرتی ہے جو جسم میں ورم اور مدافعتی ردعمل کو متحرک کرتے ہیں۔ یہی ردعمل ایلوسپیا اریا کے دوران بالوں کی جڑوں کو نقصان پہنچانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

تحقیق کے دوران بعض مریضوں کے بال تقریباً مکمل طور پر دوبارہ اگ آئے، جبکہ مجموعی نتائج سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بہتری چند ماہ کے اندر سامنے آ سکتی ہے۔

تاہم محققین نے واضح کیا ہے کہ یہ نتائج ابھی ابتدائی نوعیت کے ہیں اور مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ ماہرین یہ جاننا چاہتے ہیں کہ دوا کے نتیجے میں بحال ہونے والے بالوں کی نشوونما کتنے عرصے تک برقرار رہتی ہے اور طویل مدت میں اس کے ممکنہ مضر اثرات کیا ہو سکتے ہیں۔

اہم بات یہ ہے کہ تحقیق ہر قسم کے گنج پن کا علاج ثابت نہیں کرتی بلکہ خاص طور پر ایلوسپیا اریا سے متعلق ہے۔ اس لیے عام موروثی گنج پن میں اس دوا کے استعمال کو اس تحقیق کی بنیاد پر مؤثر علاج نہیں سمجھا جا سکتا۔

محققین کے مطابق ابتدائی نتائج حوصلہ افزا ہیں اور مزید تحقیقی کام سے اس بیماری کے علاج کے لیے نئے امکانات سامنے آنے کی توقع ہے۔

More News