حکام نے ایران پر امریکی پابندیوں سے متعلق پاکستان سے منسوب بیانات کی تردید کردی
اسلام آباد: پاکستانی حکام نے ایران پر عائد امریکی پابندیوں سے متعلق پاکستان سے منسوب کیے گئے بیانات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی میڈیا میں پاکستان کے مؤقف کو غلط انداز میں پیش کیا گیا۔
متعلقہ حکام کے مطابق پاکستان اصولی طور پر ایران پر امریکی پابندیوں کے نظام پر تبصرہ نہیں کرتا اور نہ ہی اس معاملے میں مداخلت کرتا ہے۔ حکام نے واضح کیا کہ پاکستان کا مؤقف کسی ایک فریق کی حمایت یا مخالفت کے بجائے خطے میں امن، استحکام اور معاشی خوشحالی کے وسیع تر مقصد پر مرکوز ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان خطے میں جاری کشیدگی اور اختلافات کے حل کے لیے دوستانہ، باہمی رضامندی اور عملی اقدامات کو اہمیت دیتا ہے۔ پاکستان دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کم کرنے اور بات چیت کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔
پاکستانی حکام کے مطابق اسلام آباد واشنگٹن اور تہران کے درمیان ایک پُل کا کردار ادا کرنے کے لیے مخلصانہ اور تعمیری کوششوں کے لیے پرعزم ہے۔ پاکستان کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان موجود اختلافات کو بات چیت اور سفارتی ذرائع کے ذریعے کم کرنے میں معاونت فراہم کرنا ہے۔
حکام نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان کسی بھی ایسے اقدام کا حصہ نہیں بننا چاہتا جو خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھانے کا باعث بنے۔ اسلام آباد سمجھتا ہے کہ موجودہ علاقائی صورتحال میں مذاکرات، سفارت کاری اور باہمی افہام و تفہیم ہی پائیدار حل کی جانب مؤثر راستہ فراہم کر سکتے ہیں۔
حکام نے واضح کیا کہ پاکستان ایران پر امریکی پابندیوں کے حوالے سے کوئی نیا پالیسی بیان جاری نہیں کر رہا اور نہ ہی اس معاملے پر کسی فریق کے مؤقف میں مداخلت کا خواہاں ہے۔ ایرانی میڈیا میں پاکستان سے منسوب کیے گئے ریمارکس کو اسی تناظر میں غلط انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
پاکستانی حکام نے امید ظاہر کی کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوششیں آگے بڑھیں گی اور کشیدگی میں کمی آئے گی۔ اسلام آباد کے مطابق تنازعات کا پُرامن اور سفارتی حل نہ صرف متعلقہ ممالک بلکہ پورے خطے کے امن اور استحکام کے لیے ضروری ہے۔
پاکستان نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ خطے میں امن و استحکام کے لیے تعمیری سفارتی کردار جاری رکھے گا اور فریقین کے درمیان رابطے اور مفاہمت کو فروغ دینے کی کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔








