مکہ دفاعی معاہدے سے متعلق کمیٹی کا پہلا اجلاس، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار استنبول پہنچ گئے
پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان مکہ دفاعی معاہدے سے متعلق کمیٹی کا پہلا اجلاس کل استنبول میں ہوگا، اجلاس میں علاقائی سلامتی، دفاعی تعاون اور مشترکہ دفاعی پیداوار کے امور پر غور کیا جائے گا۔
اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار سرکاری مصروفیات کے سلسلے میں ترکیہ کے شہر استنبول پہنچ گئے ہیں، جہاں پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے مکہ دفاعی معاہدے سے متعلق کمیٹی کے پہلے اجلاس میں شرکت کریں گے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار کی استنبول آمد پر ترک وزارت دفاع کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف بریگیڈیئر جنرل شینول وارول نے ان کا استقبال کیا۔ ایئرپورٹ پر ترکیہ میں پاکستان کے سفیر یوسف جنید اور ترک وزارت خارجہ کے حکام بھی موجود تھے۔
دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا دورہ سرکاری مصروفیات کے سلسلے میں ہے، تاہم ان کے دورے کا اہم مقصد تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون سے متعلق مشاورت میں شرکت کرنا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان مکہ دفاعی معاہدے سے متعلق کمیٹی کا پہلا اجلاس 31 اگست کو استنبول میں ہوگا۔ ترک وزارت خارجہ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اجلاس میں تینوں ممالک کے اعلیٰ حکام شرکت کریں گے۔
اجلاس کے دوران خطے کی مجموعی سلامتی کی صورتحال اور تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔ فریقین مشترکہ دفاعی صلاحیتوں کو بہتر بنانے اور مستقبل میں باہمی تعاون کے امکانات کا بھی جائزہ لیں گے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں مشترکہ دفاعی پیداوار، جدید دفاعی ٹیکنالوجی، تجربات کے تبادلے اور دفاعی صنعت میں تعاون جیسے اہم امور زیر بحث آئیں گے۔ تینوں ممالک کے درمیان دفاعی روابط کو ادارہ جاتی سطح پر مزید مضبوط بنانے کے لیے مختلف تجاویز پر بھی غور کیا جائے گا۔
پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان مکہ دفاعی معاہدے پر 7 اگست 2026 کو دستخط کیے گئے تھے۔ معاہدے کے بعد تینوں ممالک کے درمیان دفاعی اور سکیورٹی تعاون کے حوالے سے باقاعدہ مشاورت کا عمل شروع ہوا ہے۔
مکہ دفاعی معاہدے کو تینوں ممالک کے درمیان تزویراتی اور دفاعی شراکت داری کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اس معاہدے کے تحت فریقین کے درمیان دفاعی تعاون، مشترکہ سلامتی اور مختلف شعبوں میں باہمی رابطوں کو فروغ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
استنبول میں ہونے والا کمیٹی کا پہلا اجلاس اس تعاون کو عملی شکل دینے کی جانب ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔ اجلاس میں ہونے والی بات چیت کے بعد تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے مستقبل کے لائحہ عمل اور آئندہ کے اقدامات کے حوالے سے مزید پیش رفت متوقع ہے۔








