جعلی ویزے کے ذریعے بیرونِ ملک روانگی، ایف آئی اے پشاور زون نے ایجنٹ گرفتار کرلیا
ایف آئی اے پشاور زون کی کارروائی، تھائی لینڈ سے ڈی پورٹ ہونے والے شہری کے معاملے کی تحقیقات میں جعلی ایمپلائمنٹ ویزے کا انکشاف، مبینہ ایجنٹ نور محمد گرفتار
پشاور: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) پشاور زون نے جعلی ویزے کے ذریعے شہری کو بیرونِ ملک بھجوانے کے الزام میں نامزد مبینہ ایجنٹ کو گرفتار کرلیا ہے۔ ایف آئی اے حکام کے مطابق کارروائی جعلی ویزے اور سفری دستاویزات سے متعلق جاری تحقیقات کے دوران عمل میں لائی گئی۔
ایف آئی اے کے مطابق مسافر بختی روان کو 28 اگست 2026 کو تھائی لینڈ کے شہر بینکاک سے ڈی پورٹ کیا گیا تھا۔ وطن واپسی کے بعد مسافر سے متعلق تحقیقات شروع کی گئیں، جن کے دوران مبینہ طور پر انکشاف ہوا کہ اس نے جعلی طریقے سے اپنا وزٹ ویزہ ایمپلائمنٹ ویزے میں تبدیل کروایا تھا۔
تحقیقاتی حکام کے مطابق مسافر نے اسی مبینہ جعلی ایمپلائمنٹ ویزے کی بنیاد پر پروٹیکٹر رجسٹریشن بھی حاصل کی۔ بعد ازاں وہ مذکورہ ویزے پر باچا خان انٹرنیشنل ایئرپورٹ پشاور سے بیرونِ ملک روانہ ہوا۔
ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران سامنے آیا کہ ایجنٹ نور محمد نے مسافر کے لیے مبینہ طور پر جعلی ایمپلائمنٹ ویزے کا انتظام کیا تھا۔ شواہد اور دستیاب معلومات کی بنیاد پر ایجنٹ کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا اور اس کی گرفتاری کے لیے کارروائی شروع کی گئی۔
ایف آئی اے ٹیم نے کارروائی کرتے ہوئے مردان میں تھانہ لُنڈ خوڑ کی حدود میں چھاپہ مارا۔ کارروائی کے دوران ایف آئی آر نمبر 132/2026 میں نامزد ملزم نور محمد کو گرفتار کرلیا گیا۔ مذکورہ ایف آئی آر 28 اگست 2026 کو درج کی گئی تھی۔
حکام کے مطابق گرفتار ملزم سے جعلی ویزے کے حصول، مسافر کی بیرونِ ملک روانگی اور دیگر متعلقہ معاملات کے بارے میں مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔ ایف آئی اے اس بات کا بھی جائزہ لے رہی ہے کہ جعلی ویزے کی تیاری اور اسے استعمال کرنے کے عمل میں مزید کون سے افراد ملوث تھے۔
جعلی ویزوں اور غیر قانونی طریقوں سے شہریوں کو بیرونِ ملک بھجوانے کے واقعات کے خلاف ایف آئی اے کی جانب سے کارروائیاں جاری ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایسے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی جو شہریوں کو جعلی دستاویزات یا غیر قانونی ذرائع کے ذریعے بیرونِ ملک بھیجنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ایف آئی اے کے مطابق گرفتار ملزم نور محمد کے خلاف مزید قانونی کارروائی جاری ہے جبکہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد مقدمے میں مزید پیش رفت متوقع ہے۔
حکام نے شہریوں کو بھی مشورہ دیا ہے کہ بیرونِ ملک ملازمت یا سفر کے لیے ویزے کا حصول صرف قانونی اور مستند ذرائع سے کریں تاکہ جعلی دستاویزات، فراڈ اور ڈی پورٹیشن جیسے مسائل سے بچا جا سکے۔








