لارڈز ٹیسٹ میں شکست کے بعد امام الحق تنقید کی زد میں، انجری کے باوجود پریکٹس پر سوالات
لارڈز ٹیسٹ میں پاکستان کی شکست کے بعد اوپنر امام الحق کو انجری کے باوجود میدان کے کنارے پریکٹس کرنے پر تنقید کا سامنا ہے، جبکہ سابق انگلش فاسٹ بولر اسٹورٹ براڈ نے بھی ان کے فیصلے پر سوال اٹھا دیا۔
پاکستانی اوپنر امام الحق لارڈز ٹیسٹ میں انگلینڈ کے ہاتھوں شکست کے بعد سوشل میڈیا اور کرکٹ حلقوں میں تنقید کی زد میں آ گئے ہیں۔ امام الحق کو میچ کے پہلے روز فیلڈنگ کے دوران بائیں پنڈلی میں معمولی درجے کی کھچاؤ کی چوٹ لگی تھی، جس کے بعد انہیں باقی ٹیسٹ سے باہر قرار دے دیا گیا تھا۔
انجری اس وقت سامنے آئی جب امام الحق فیلڈنگ کے دوران دو کیچز چھوڑ چکے تھے۔ چوٹ کے باعث پاکستان کو میچ کے باقی حصے میں ایک اضافی بلے باز کی کمی کا سامنا بھی رہا۔ پاکستان دوسری اننگز میں مشکلات کا شکار ہوا، تاہم امام الحق بیٹنگ کے لیے میدان میں نہیں اترے۔
میچ کے چوتھے روز امام الحق کو لارڈز کے میدان کے کنارے زخمی پنڈلی پر ٹیپ باندھے ہلکی پھلکی بیٹنگ پریکٹس کرتے دیکھا گیا۔ ویڈیو میں وہ پریکٹس کے دوران لنگڑاتے ہوئے بھی دکھائی دیے۔
پاکستانی ٹیم کی جانب سے یہ اشارے دیے گئے تھے کہ اگر دوسری اننگز میں صورتحال نے تقاضا کیا تو امام الحق بیٹنگ کے لیے میدان میں آ سکتے ہیں۔ تاہم سابق انگلش فاسٹ بولر اور کمنٹیٹر اسٹورٹ براڈ نے میدان کے باہر امام کی پریکٹس پر تنقید کی۔
براڈ نے کہا کہ امام الحق آرام سے ان ڈور سہولت میں پریکٹس کر سکتے تھے، لیکن ان کا باہر آ کر پریکٹس کرنا انہیں زیادہ تر میڈیا اور شائقین کو دکھانے کی کوشش محسوس ہوا۔ براڈ کے مطابق وہ امام کے اس فیصلے سے متاثر نہیں ہوئے۔
براڈ کے تبصرے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی امام الحق کے حوالے سے مختلف آرا سامنے آئیں۔ بعض صارفین نے سوال اٹھایا کہ اگر کھلاڑی بیٹنگ کے لیے فٹ نہیں تھا تو اسے زخمی حالت میں پریکٹس کرتے ہوئے میدان میں آنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔
دوسری جانب کرکٹ میں ایسے کھلاڑیوں کی مثالیں بھی موجود ہیں جنہوں نے شدید انجری کے باوجود اپنی ٹیم کے لیے بیٹنگ یا فیلڈنگ کی۔ اسی تناظر میں بعض شائقین کا کہنا ہے کہ اہم ٹیسٹ میچ میں ٹیم کو ضرورت ہو تو کھلاڑی کو اپنی دستیابی ثابت کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، تاہم حتمی فیصلہ طبی ٹیم اور کپتان کا ہونا چاہیے۔
لارڈز ٹیسٹ میں شکست کے بعد پاکستان تین میچوں کی سیریز میں 2-0 سے پیچھے ہے۔ مسلسل ناکامیوں کے باعث قومی ٹیم کی کارکردگی اور کھلاڑیوں کے انتخاب پر پہلے ہی سوالات اٹھ رہے ہیں، جبکہ امام الحق کی انجری اور اس کے بعد کی صورتحال نے بحث کو مزید بڑھا دیا ہے۔






