پاکستان اور ترکیہ کا خطے میں مشترکہ دفاعی تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق
استنبول میں ترک وزیر دفاع یاشار گولر اور پاکستانی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کے درمیان اہم ملاقات ہوئی، جس میں دونوں ممالک نے خطے میں دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔
پاکستان اور ترکیہ نے خطے میں مشترکہ دفاعی تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ اتفاق رائے استنبول میں پاکستانی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اور ترک وزیر دفاع یاشار گولر کے درمیان ہونے والی اہم ملاقات میں سامنے آیا۔
ملاقات میں ترکیہ کے چیف آف جنرل اسٹاف جنرل سلچوک بائرکتار اوغلو بھی شریک ہوئے۔ دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام نے خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال اور دفاعی شعبے میں باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔
ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت قائم اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کا پہلا اجلاس استنبول میں جاری ہے۔ تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے اس نئے فریم ورک کو خطے میں مشترکہ سیکیورٹی اور دفاعی روابط کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف اور ترک قیادت نے دفاعی شعبے میں موجود تعاون کو مزید مؤثر بنانے اور باہمی روابط کو مضبوط کرنے پر اتفاق کیا۔ دونوں ممالک پہلے ہی دفاعی تربیت، عسکری مشقوں، دفاعی ٹیکنالوجی اور مختلف شعبوں میں تعاون کر رہے ہیں، جبکہ حالیہ رابطوں سے اس شراکت داری کو مزید آگے بڑھانے کے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔
پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تاریخی اور برادرانہ تعلقات کے ساتھ ساتھ دفاعی شعبے میں بھی قریبی تعاون پایا جاتا ہے۔ دونوں ممالک خطے میں امن، استحکام اور سیکیورٹی کے لیے باہمی مشاورت اور تعاون کو اہمیت دیتے ہیں۔
استنبول میں ہونے والی ملاقات اور تین ملکی اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کے پہلے اجلاس کو اسی وسیع تر دفاعی تعاون کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اجلاس میں پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے اعلیٰ سیاسی و عسکری حکام شریک ہیں، جہاں مشترکہ دفاعی پیداوار، ٹیکنالوجی اور سیکیورٹی تعاون سمیت مختلف امور پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
تینوں ممالک کے درمیان حالیہ دفاعی رابطے خطے میں بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔ پاکستان اور ترکیہ کی قیادت نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ باہمی دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا اور مشترکہ مفادات کے لیے رابطوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔






