ایس سی او اجلاس: پاکستان، بھارت سمیت رکن ممالک کے سربراہان کرغزستان پہنچنا شروع
بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کا سربراہی اجلاس، وزیراعظم شہباز شریف پاکستان کی نمائندگی کریں گے
شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کا سربراہی اجلاس کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شروع ہوگیا ہے، جس میں پاکستان، چین، روس، بھارت اور ایران سمیت رکن ممالک کے سربراہان اور اعلیٰ حکام شرکت کر رہے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف تین روزہ دورے پر بشکیک پہنچ چکے ہیں، جہاں وہ ایس سی او سربراہی اجلاس سے خطاب کریں گے اور علاقائی و عالمی امور پر پاکستان کا مؤقف پیش کریں گے۔ وزیراعظم ایس سی او پلس سربراہی اجلاس میں بھی شرکت کریں گے جبکہ دورے کے دوران مختلف ممالک کے رہنماؤں سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔
وزیراعظم آفس کے مطابق ان ملاقاتوں میں باہمی تعلقات، تجارت، سرمایہ کاری، علاقائی تعاون اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ شہباز شریف ورلڈ نومیڈ گیمز کی افتتاحی تقریب میں بطور مہمان خصوصی بھی شرکت کریں گے۔
دوسری جانب چین کے صدر شی جن پنگ اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان بھی بشکیک پہنچ چکے ہیں جبکہ روس کے صدر ولادیمیر پوتن کی بھی اجلاس میں شرکت متوقع ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سمیت دیگر رہنما بھی اجلاس میں شریک ہوں گے۔
ایس سی او اپنے قیام کے 25 سال مکمل ہونے کے موقع پر سربراہی اجلاس منعقد کر رہی ہے۔ تنظیم میں چین، روس، پاکستان، بھارت، ایران، بیلاروس اور وسطی ایشیا کے ممالک شامل ہیں۔ ترکیہ، سعودی عرب اور قطر سمیت متعدد ممالک کو مکالماتی شراکت دار کا درجہ حاصل ہے جبکہ افغانستان اور منگولیا مبصر ممالک ہیں۔
اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خطے کو یوکرین جنگ، ایران سے متعلق کشیدگی اور عالمی تجارتی تنازعات سمیت متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔ روس اور چین گزشتہ برسوں کے دوران ایس سی او پلیٹ فارم کو کثیر قطبی عالمی نظام اور علاقائی تعاون کے فروغ کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔
ایس سی او کے رکن ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون، علاقائی سلامتی، تجارت، سرمایہ کاری اور باہمی رابطوں کے فروغ سمیت مختلف امور پر بات چیت متوقع ہے۔
ماہرین کے مطابق بشکیک اجلاس پاکستان کے لیے بھی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ وزیراعظم شہباز شریف کی مختلف ممالک کے رہنماؤں سے ملاقاتوں کے دوران دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی روابط کے معاملات زیر بحث آنے کا امکان ہے۔
ایس سی او کا قیام 2001 میں چین، روس اور وسطی ایشیا کی چار ریاستوں نے کیا تھا۔ گزشتہ 25 برسوں کے دوران تنظیم کے ارکان اور اثر و رسوخ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔






