نادرا اور وفاقی تعلیمی بورڈ میں معاہدہ، تعلیمی ریکارڈ کا ڈیجیٹل نظام وضع
طلبہ کی معلومات کا باہمی تبادلہ ہوگا، ڈیجیٹل والٹ کے ذریعے اسناد تک محفوظ رسائی ملے گی
اسلام آباد: نادرا اور وفاقی تعلیمی بورڈ کے درمیان طلبہ کے قومی شناخت اور تعلیمی ریکارڈ کو مربوط بنانے کے لیے اہم معاہدے پر دستخط ہوگئے۔
یہ معاہدہ ملک کے تمام تعلیمی بورڈز اور ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے ساتھ ڈیٹا کی ڈیجیٹل ترسیل کو مربوط بنانے کے نادرا کے منصوبے کا حصہ ہے۔ معاہدے کے تحت نادرا اور وفاقی تعلیمی بورڈ کے درمیان طلبہ کے ڈیٹا کے باہمی تبادلے کا باقاعدہ نظام وضع کیا گیا ہے۔
نئے نظام کے تحت نادرا کے ریکارڈ سے وفاقی تعلیمی بورڈ کو طلبہ کی بنیادی معلومات فراہم کی جائیں گی، جن میں نام، ولدیت، تاریخ پیدائش اور دیگر ضروری تفصیلات شامل ہوں گی۔ اس اقدام کے ذریعے طلبہ کی رجسٹریشن اور تعلیمی اسناد کے نظام کو قومی شناختی ریکارڈ کے ساتھ مربوط کیا جائے گا۔
حکام کے مطابق ڈیٹا کو مربوط کرنے سے طلبہ کی رجسٹریشن کے دوران ہونے والی غلطیوں اور مختلف ریکارڈز میں موجود معلومات کے تضاد کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔ اس کے نتیجے میں تعلیمی ریکارڈ زیادہ درست اور قابل اعتماد بنانے کی راہ ہموار ہوگی۔
معاہدے کے تحت درست معلومات کی بنیاد پر تعلیمی اسناد کے اجرا کا نظام بھی بہتر بنانے کی کوشش کی جائے گی، جس سے تعلیمی اداروں اور متعلقہ سرکاری محکموں کے انتظامی امور میں آسانی پیدا ہوگی۔
اس منصوبے کا ایک اہم حصہ طلبہ کے لیے ڈیجیٹل والٹ کا قیام بھی ہے۔ ڈیجیٹل والٹ کے ذریعے طلبہ اپنی تعلیمی اسناد اور متعلقہ ریکارڈ تک محفوظ ڈیجیٹل رسائی حاصل کرسکیں گے۔
یہ اقدام پاکستان میں تعلیمی ریکارڈ کو جدید ڈیجیٹل نظام سے منسلک کرنے کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ قومی شناختی معلومات اور تعلیمی ریکارڈ کے باہمی ربط سے مستقبل میں اسناد کی تصدیق، طلبہ کی رجسٹریشن اور دیگر متعلقہ معاملات کو مزید آسان اور شفاف بنانے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔
نادرا کا یہ منصوبہ مستقبل میں ملک کے دیگر تعلیمی بورڈز اور ایچ ای سی کے ساتھ ڈیٹا کے ڈیجیٹل تبادلے کو بھی مربوط بنانے کی بنیاد فراہم کرے گا۔




