اسکاٹ لینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ کا برطانیہ سے آزادی کا مطالبہ

اسکاٹ لینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ کا برطانیہ سے آزادی کا مطالبہ

کارڈف: اسکاٹ لینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ کی آزادی کی حامی سیاسی جماعتوں نے برطانیہ سے علیحدگی اور حقِ خود ارادیت کے مطالبے کو مزید مضبوط کرتے ہوئے مشترکہ اعلامیہ جاری کردیا ہے۔ تینوں خطوں کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ ویسٹ منسٹر کا وقت ختم ہورہا ہے اور اب متعلقہ اقوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کا حق ملنا چاہیے۔

کارڈف میں ہونے والی اہم ملاقات میں اسکاٹ لینڈ کے فرسٹ منسٹر جان سوینی، ویلز کے رہنما رھون ایپ آئیورورتھ اور شمالی آئرلینڈ کی فرسٹ منسٹر مشیل او نیل سمیت آزادی کی حامی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی۔ اس موقع پر مشترکہ یادداشت اور اعلامیے کے ذریعے آئینی تبدیلی اور مستقبل میں آزادی کے لیے ریفرنڈم کے مطالبے پر زور دیا گیا۔

مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ اسکاٹ لینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ کے عوام کو اپنے سیاسی مستقبل کے تعین کا حق حاصل ہے۔ رہنماؤں نے برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ممکنہ آئینی تبدیلی کے لیے تیاری کرے اور ان خطوں کو اپنے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنے کا موقع فراہم کرے۔

رہنماؤں کے مطابق پہلی مرتبہ تینوں خطوں میں آزادی کی حامی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے فرسٹ منسٹرز موجود ہیں، جسے وہ برطانیہ کے موجودہ آئینی نظام میں بڑی تبدیلی کی علامت قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سیاسی منظرنامہ تبدیل ہو رہا ہے اور آنے والے برسوں میں آئینی تبدیلی کے امکانات بڑھ رہے ہیں۔

اسکاٹ لینڈ کے رہنما جان سوینی نے آزادی کے ریفرنڈم کے مطالبے کو بھی دہرایا ہے، جبکہ ویلز کی آزادی کی حامی قیادت نے بھی مزید اختیارات اور مستقبل میں مکمل خودمختاری کی بات کی ہے۔ شمالی آئرلینڈ کے حوالے سے آزادی کی بجائے آئرلینڈ کے ساتھ دوبارہ اتحاد کا معاملہ بھی زیر بحث ہے۔

تینوں جماعتوں نے معیشت، توانائی، یورپ کے ساتھ تعلقات اور بین الاقوامی تعاون سمیت مختلف شعبوں میں باہمی تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔ آزادی کی صورت میں اسکاٹ لینڈ اور ویلز کے یورپی یونین کے ساتھ دوبارہ تعلقات قائم کرنے جبکہ شمالی آئرلینڈ کے لیے جمہوریہ آئرلینڈ کے ساتھ اتحاد کے ذریعے یورپی یونین کا حصہ بننے کا تصور بھی پیش کیا گیا ہے۔

تاہم برطانوی حکومت کی جانب سے فوری آزادی کے ریفرنڈم کے مطالبات کی حمایت نہیں کی گئی۔ اس کے باوجود تینوں خطوں کی آزادی کی حامی جماعتوں کا مشترکہ پلیٹ فارم لندن کے لیے ایک نیا سیاسی چیلنج بن گیا ہے۔ رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کا اختیار ملنا چاہیے، جبکہ برطانوی سیاسی قیادت آئینی اتحاد برقرار رکھنے کے حق میں ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسکاٹ لینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ میں برطانیہ کے ساتھ تعلقات، مزید خودمختاری اور ممکنہ آئینی تبدیلی پر بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر رہی ہے۔

More News