سہیل آفریدی سمیت پی ٹی آئی کے 24 ارکان کے پاسپورٹ بلاک کرنے کا حکم
اسلام آباد: انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سمیت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 24 ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کے پاسپورٹ بلاک کرنے کا حکم دے دیا۔
انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے تھانہ کوہسار میں درج مقدمے سے متعلق پولیس کی درخواست پر فیصلہ جاری کیا۔ عدالت نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو ہدایت کی ہے کہ مذکورہ ملزمان کے پاسپورٹ اگلے احکامات تک بلاک رکھے جائیں۔
عدالتی حکم کے مطابق پاسپورٹ بلاک کرنے کی درخواست تفتیشی افسر کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔ تفتیشی افسر نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ مقدمے میں نامزد ملزمان قانونی کارروائی سے بچنے کے لیے ملک سے فرار ہوسکتے ہیں، اس لیے ان کے پاسپورٹ بلاک کیے جائیں۔
عدالت نے دستیاب ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ ملزمان مقدمے میں نامزد ہیں اور ان پر ریاستی اداروں پر حملوں اور دہشت گردی کے فروغ سمیت سنگین نوعیت کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ عدالت کے مطابق ملزمان عدالت کے روبرو پیش ہونے میں بھی ناکام رہے ہیں۔
حکم نامے میں مزید کہا گیا کہ بعض ملزمان نے عبوری ضمانت حاصل کر رکھی ہے، تاہم وہ مقدمے میں شامل تفتیش نہیں ہوئے۔ عدالت نے تفتیشی افسر کی درخواست منظور کرتے ہوئے ایف آئی اے کو ملزمان کے پاسپورٹ بلاک کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پاسپورٹ بلاک کرنے کا حکم وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے علاوہ پی ٹی آئی کے دیگر اہم رہنماؤں اور ارکان اسمبلی کے خلاف بھی جاری کیا گیا ہے۔ ان میں اسد قیصر، شہرام ترکئی، شاہ احد، شیر علی ارباب، محمد اقبال آفریدی اور ڈاکٹر امجد علی شامل ہیں۔
عدالت کے حکم کے مطابق جنید اکبر، شاہد خٹک، زبیر وزیر، عمر ایوب، ارشد عمر زئی، زر عالم، میاں عمر اور اختر خان کے پاسپورٹ بھی بلاک کیے جائیں گے۔
دیگر نامزد افراد میں ہمایوں خان، ریاض خان، عبدالکبیر خان، طفیل انجم، آصف محسود، عجب گل، محمد عثمان، بابر سلیم سواتی، عرفان سلیم، ایڈووکیٹ علی زمان اور ملک شہاب شامل ہیں۔
عدالت نے واضح کیا کہ پاسپورٹ بلاک کرنے کا اقدام مقدمے کی تفتیش اور ملزمان کی ممکنہ بیرون ملک روانگی روکنے کے لیے کیا گیا ہے۔ ایف آئی اے کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ عدالت کے آئندہ احکامات تک پاسپورٹ بلاک رکھنے کے فیصلے پر عمل درآمد کرے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف مختلف مقدمات اور قانونی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ پارٹی کی جانب سے سیاسی سرگرمیاں بھی جاری ہیں۔







