وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو لاہور میں گرفتار کیے جانے کی اطلاعات، ذرائع

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو لاہور میں گرفتار کیے جانے کی اطلاعات، ذرائع

لاہور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو لاہور میں گرفتار کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، تاہم گرفتاری کی سرکاری سطح پر تاحال تصدیق نہیں ہوسکی۔

ذرائع کے مطابق سہیل آفریدی کو لاہور میں پولیس کی جانب سے حراست میں لیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ تاہم اس حوالے سے پولیس یا حکومت کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔

سہیل آفریدی پیر کو لاہور میں موجود تھے جہاں انہوں نے مبینہ پولیس تشدد کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے پی ٹی آئی کارکن اشتیاق احمد کے اہل خانہ سے ملاقات کی اور فاتحہ خوانی کی۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے اس موقع پر اہل خانہ سے تعزیت بھی کی۔

اس سے قبل سہیل آفریدی نے اعلان کیا تھا کہ وہ لاہور میں پی ٹی آئی کارکنوں کے خلاف مبینہ کریک ڈاؤن کے معاملے پر پنجاب اسٹریٹ موومنٹ کا آئندہ لائحہ عمل بھی پیش کریں گے۔ انہوں نے کارکنوں کے خلاف کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے اپنے پرامن اور آئینی حقِ احتجاج سے دستبردار نہ ہونے کا اعلان کیا تھا۔

سہیل آفریدی کی گرفتاری کی اطلاعات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب پی ٹی آئی کی جانب سے 27 ستمبر کو اسلام آباد میں احتجاج اور لانگ مارچ کی تیاریاں جاری ہیں۔ پارٹی کے اندر مارچ کے حوالے سے اختلافات کی خبریں بھی سامنے آ رہی ہیں، جبکہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اس حوالے سے سرگرم کردار ادا کر رہے ہیں۔

دوسری جانب اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے 26 نومبر احتجاج کیس میں سہیل آفریدی سمیت متعدد پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف قانونی کارروائی بھی کی ہے۔ تازہ عدالتی پیش رفت میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سمیت پی ٹی آئی کے 24 ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کے پاسپورٹ بلاک کرنے کا حکم بھی سامنے آیا ہے۔

تاہم لاہور میں سہیل آفریدی کی گرفتاری سے متعلق دعوے کی حتمی تصدیق متعلقہ حکام کے باضابطہ بیان کے بعد ہی ہوسکے گی۔

More News