بازار 9، شادی ہالز 10 اور ریسٹورنٹس رات 11 بجے بند کرنے کا حکم
اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد کفایت شعاری کے مختلف اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے متعلقہ نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے تحت ملک بھر میں بازار، شادی ہالز اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار مقرر کردیے گئے ہیں، جبکہ سرکاری گاڑیوں کے ایندھن کے استعمال میں بھی کمی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق ملک بھر میں مارکیٹیں رات 9 بجے بند کردی جائیں گی، جبکہ شادی ہالز رات 10 بجے اور ریسٹورنٹس رات 11 بجے بند کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد توانائی اور دیگر اخراجات میں کمی لانا اور موجودہ معاشی صورتحال میں حکومتی سطح پر کفایت شعاری کو فروغ دینا بتایا گیا ہے۔
حکومتی فیصلے کے تحت شادی کی تقریبات میں صرف ون ڈش کی اجازت ہوگی۔ تاہم فارمیسیز، اسپتال، بیکریاں، دودھ کی دکانیں اور تندور مقررہ نئے اوقات کار سے مستثنیٰ ہوں گے۔ ان کاروباروں کو عوام کی ضروریات کے پیش نظر معمول کے مطابق کام کرنے کی اجازت ہوگی۔
وفاقی حکومت کے کفایت شعاری پروگرام کے تحت سرکاری گاڑیوں کے ایندھن کے کوٹے میں بھی 50 فیصد کمی کردی گئی ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق سرکاری گاڑیوں کے ایندھن میں یہ کٹوتی تین ماہ تک نافذ العمل رہے گی۔
تاہم ترقیاتی منصوبوں کے لیے استعمال ہونے والی سرکاری گاڑیوں کو ایندھن کے کوٹے میں کمی کے فیصلے سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ نان ای آر ای بجٹ میں ماہانہ 5 فیصد کٹوتی کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔
وفاقی حکومت نے نئی سرکاری گاڑیوں کی خریداری پر بھی پابندی عائد کردی ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق تمام اقسام کی نئی سرکاری گاڑیوں کی خریداری ممنوع ہوگی، جبکہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے آلات کے علاوہ دیگر پائیدار اشیا کی خریداری پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے۔
کفایت شعاری اقدامات کے تحت مختلف سرکاری اخراجات کو محدود کرنے کا فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث اخراجات اور مہنگائی سے متعلق خدشات موجود ہیں۔
حکومت کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق یہ اقدامات سرکاری وسائل کے محتاط استعمال اور غیر ضروری اخراجات میں کمی کے لیے کیے گئے ہیں۔ ایندھن کے کوٹے میں کمی سمیت بعض اقدامات تین ماہ کے لیے نافذ رہیں گے، جبکہ دیگر پابندیوں کا اطلاق حکومتی اداروں کی خریداری اور اخراجات پر ہوگا۔








