افغانستان مثبت امن کے اشاریے میں 157 ویں نمبر پر، جنوبی ایشیا میں واحد تنزلی کا شکار ملک
کابل: آسٹریلوی تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ فار اکنامکس اینڈ پیس (IEP) کی پازیٹو پیس رپورٹ 2026 کے مطابق افغانستان 163 ممالک میں 157 ویں نمبر پر ہے اور دنیا کے کم ترین مثبت امن رکھنے والے ممالک میں شامل ہے۔ افغانستان نے انڈیکس میں 5 میں سے 4.19 پوائنٹس حاصل کیے۔
رپورٹ کے مطابق 2015 سے 2024 کے دوران افغانستان جنوبی ایشیا کا واحد ملک رہا جہاں مثبت امن کی صورتحال میں مجموعی تنزلی ریکارڈ کی گئی۔ اس عرصے میں افغانستان کی کارکردگی میں 3.3 فیصد کمی ہوئی، جبکہ خطے کے مجموعی مثبت امن اسکور میں اوسطاً 2.9 فیصد بہتری آئی۔
رپورٹ میں افغانستان کی تنزلی کی بڑی وجوہات میں سیاسی آزادی اور معلومات کے آزادانہ بہاؤ میں کمی کو قرار دیا گیا ہے۔ آزادیٔ صحافت کے اشاریے میں 78.8 فیصد کمی ریکارڈ ہوئی، جو جنوبی ایشیا میں کسی ایک اشاریے کی سب سے بڑی گراوٹ ہے۔
اسی طرح معلومات کے معیار میں 23.4 فیصد، مختلف طبقات کے لیے مساوی حقوق سے متعلق قوانین میں 25 فیصد، سماجی و معاشی طبقات کے اخراج کے اشاریے میں 20.4 فیصد اور حکومتی مؤثریت میں 13.2 فیصد تنزلی رپورٹ ہوئی۔
انسٹی ٹیوٹ فار اکنامکس اینڈ پیس کے مطابق پازیٹو پیس صرف جنگ یا تشدد کی عدم موجودگی کو نہیں ناپتا بلکہ ان ادارہ جاتی اور سماجی حالات کا جائزہ لیتا ہے جو طویل المدت امن اور استحکام کو برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ اس میں مؤثر حکمرانی، معلومات کا آزادانہ بہاؤ، انسانی سرمایہ، حقوق کا احترام، ہمسایہ ممالک سے اچھے تعلقات اور بدعنوانی کی کم سطح سمیت مختلف عوامل شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اسی عرصے میں سری لنکا کے مثبت امن اسکور میں 6.3 فیصد، بھارت میں 6 فیصد، نیپال میں 4.7 فیصد، بھوٹان میں 4.1 فیصد، بنگلہ دیش میں 3.5 فیصد اور پاکستان میں 0.9 فیصد بہتری ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ 163 ممالک اور 20 ہزار سے زائد ڈیٹا سیٹس و اشاریوں کے تجزیے پر مبنی ہے، جبکہ اس میں زیرِ جائزہ مدت 2015 سے 2024 تک کے اعداد و شمار شامل ہیں۔







