شہباز شریف اور گوتریس کے درمیان علاقائی چیلنجز اور امن کی کوششوں پر گفتگو
نیویارک: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ تنازعات کے حل اور امن کے قیام کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری ہی بنیادی راستہ ہونا چاہیے، خصوصاً مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیے سفارتی کوششیں جاری رہنا ضروری ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے یہ بات اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے نیویارک میں ملاقات کے دوران کہی۔ ملاقات میں خطے اور دنیا کو درپیش اہم چیلنجز سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت اور آزاد ریاست کے قیام کی مسلسل حمایت کرتا ہے۔ ملاقات کے دوران بڑھتی ہوئی اسلاموفوبیا اور افغانستان کی سرزمین سے دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرے پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔
شہباز شریف نے عالمی امن اور سلامتی کے لیے پاکستان کی خدمات، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی قوم اور سکیورٹی فورسز کی قربانیوں اور خطے میں مذاکرات اور پائیدار امن کے فروغ کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہنے پر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا شکریہ ادا کیا۔
اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف نے لبنان کی خودمختاری، سیاسی آزادی، اتحاد اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ بھی کیا۔
وزیراعظم نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر لبنانی وزیراعظم نواف سلام سے ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات، مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور خطے میں ہونے والی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔
شہباز شریف نے فوری طور پر جنگ بندی، جنگ بندی معاہدوں پر مکمل عملدرآمد، مقبوضہ لبنانی علاقوں سے اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر مکمل عملدرآمد پر زور دیا۔
ملاقات میں پاکستان اور لبنان کے درمیان دیرینہ اور برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا گیا۔ دونوں جانب سے اعلیٰ سطح کے رابطوں، تجارت و سرمایہ کاری، دفاعی تعاون اور ادارہ جاتی روابط سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے کے امکانات پر بھی گفتگو ہوئی۔








