خیبرپختونخوا میں بدامنی، شہری صوبائی حکومت پر برس پڑے
پشاور: خیبرپختونخوا میں بدامنی اور دہشتگردی کے بڑھتے واقعات پر شہریوں نے صوبائی حکومت اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت کی توجہ عوامی مسائل کے بجائے دھرنوں اور احتجاجی سیاست پر مرکوز ہے، جبکہ تعلیم، صحت اور سڑکوں سمیت بنیادی شعبے بھی مشکلات کا شکار ہیں۔
بعض شہریوں نے وفاق سے صوبائی حکومت کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ صوبائی حکومت سے وابستہ بعض افراد کی اشتعال انگیز تقاریر عوام میں نفرت اور انتشار کو ہوا دے رہی ہیں۔
شہریوں نے مزید الزام لگایا کہ ایسے بیانات ریاستی اداروں کے خلاف اشتعال کا باعث بن رہے ہیں اور حکومت کو سیاسی سرگرمیوں کے بجائے صوبے میں امن و امان اور عوامی مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔
دوسری جانب حالیہ سیاسی کشیدگی کے دوران وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے دہشتگردی کے خاتمے، سیاسی مذاکرات اور وفاق و صوبے کے درمیان مشاورت کی ضرورت پر مشتمل مطالبات پیش کیے ہیں۔ وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات بھی لانگ مارچ سے قبل ڈیڈلاک کا شکار ہوئے۔
خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر سیاسی اختلافات کے باوجود شہریوں کا کہنا ہے کہ صوبے میں دیرپا امن، بہتر حکمرانی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کو ترجیح دی جانی چاہیے۔








