نیشنل گرڈ میں بجلی کی کمی 4500 میگا واٹ سے تجاوز کر گئی
اسلام آباد: ملک میں بجلی کی طلب اور رسد کے درمیان فرق بڑھ گیا، نیشنل گرڈ میں بجلی کی کمی 4500 میگا واٹ سے تجاوز کر گئی۔
بجلی کے شارٹ فال میں اضافے کے باعث مختلف علاقوں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بڑھنے کا خدشہ ہے، جبکہ بجلی کی مسلسل فراہمی صارفین کے لیے ایک بار پھر اہم مسئلہ بن گئی ہے۔
توانائی کے شعبے سے متعلق اعداد و شمار کے مطابق بجلی کی طلب میں اضافے اور پیداوار میں کمی کے باعث نیشنل گرڈ پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ بجلی کی مجموعی پیداوار طلب کے مقابلے میں کم ہونے کی وجہ سے شارٹ فال میں اضافہ ہوا ہے۔
ملک میں بجلی کی طلب مختلف اوقات میں تبدیل ہوتی رہتی ہے، جبکہ بجلی کی پیداوار کا انحصار پاور پلانٹس کی دستیابی، ایندھن کی فراہمی، موسم اور دیگر تکنیکی عوامل پر ہوتا ہے۔ کسی بھی بڑے پیداواری یونٹ کی بندش یا پیداوار میں کمی سے طلب اور رسد کا فرق مزید بڑھ سکتا ہے۔
بجلی کے شارٹ فال میں اضافے کے نتیجے میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو مختلف علاقوں میں لوڈ مینجمنٹ کرنا پڑ سکتی ہے۔ اس صورتحال سے شہری، کاروباری مراکز اور صنعتی صارفین بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب بجلی کی طلب اور رسد میں توازن برقرار رکھنے کے لیے توانائی کے شعبے میں پیداواری صلاحیت بڑھانے کے ساتھ ساتھ ترسیلی اور تقسیمی نظام کو بہتر بنانا بھی ضروری ہے۔ ماہرین کے مطابق بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے مستقل بنیادوں پر منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔
نیشنل گرڈ میں 4500 میگا واٹ سے زائد شارٹ فال نے بجلی کے نظام پر موجود دباؤ کو نمایاں کردیا ہے۔ اگر پیداوار میں فوری بہتری نہ آئی تو بعض علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہونے کا امکان ہے۔
حکام کی جانب سے بجلی کی پیداوار اور طلب کے درمیان فرق کو کم کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، تاہم صارفین کے لیے بجلی کی بلاتعطل فراہمی اور لوڈشیڈنگ میں کمی ایک اہم چیلنج برقرار ہے۔








