جی ایچ کیو میں فیلڈ مارشل عاصم منیر سے انتونیو گوتریس کی ملاقات

جی ایچ کیو میں فیلڈ مارشل عاصم منیر سے انتونیو گوتریس کی ملاقات

راولپنڈی: اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے جی ایچ کیو راولپنڈی میں چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات کی۔ ملاقات میں علاقائی سلامتی، عالمی امن اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے دوران خطے کی موجودہ سکیورٹی صورتحال اور عالمی امن و استحکام سے متعلق امور زیر بحث آئے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی پاکستان آمد ایسے وقت میں ہوئی ہے جب خطے اور عالمی سطح پر مختلف سکیورٹی اور سفارتی چیلنجز موجود ہیں۔

ذرائع کے مطابق ملاقات میں پاکستان کے عالمی امن کے لیے کردار اور اقوام متحدہ کے امن مشنز میں پاکستانی افواج کی خدمات کا بھی ذکر کیا گیا۔ انتونیو گوتریس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ اور اقوام متحدہ کے امن مشنز میں پاکستان اور اس کی مسلح افواج کی قربانیوں اور کردار کو سراہا۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پاکستان کے عالمی امن اور سلامتی کے لیے عزم کا اعادہ کیا۔ ملاقات میں خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے عالمی تعاون کی اہمیت پر بھی گفتگو کی گئی۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس پاکستان کے سرکاری دورے پر ہیں۔ انہوں نے 6 اکتوبر کو اسلام آباد میں پاکستانی قیادت سے ملاقاتیں کیں اور علاقائی و عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا۔ اقوام متحدہ کے مطابق گوتریس نے پاکستان کی سفارتی کوششوں اور خطے میں امن کے لیے کردار کو بھی سراہا۔

جی ایچ کیو میں ہونے والی ملاقات کو پاکستان اور اقوام متحدہ کے درمیان علاقائی امن، سلامتی اور بین الاقوامی تعاون کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ ملاقات میں اس بات پر زور دیا گیا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے سفارتی کوششوں اور عالمی تعاون کو فروغ دینا ضروری ہے۔

پاکستان اقوام متحدہ کے امن مشنز میں طویل عرصے سے حصہ لیتا آ رہا ہے، جبکہ ملک کو دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں بھی جانی نقصان کا سامنا رہا ہے۔ انتونیو گوتریس کی جانب سے پاکستان کی ان خدمات کا اعتراف ملاقات کے اہم نکات میں شامل رہا۔

دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب عالمی سطح پر امن و سلامتی، تنازعات کے خاتمے اور سفارتی حل کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔ پاکستان نے بھی مختلف علاقائی معاملات میں مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کی حمایت کی ہے۔

More News