چیٹ جی پی ٹی صارفین کو نشانہ بنانے کے لیے سائبر فراڈ کا نیا طریقہ

چیٹ جی پی ٹی صارفین کو نشانہ بنانے کے لیے سائبر فراڈ کا نیا طریقہ

چیٹ جی پی ٹی استعمال کرنے والے صارفین کو نشانہ بنانے کے لیے سائبر مجرمان نے مبینہ طور پر آن لائن فراڈ کا نیا طریقہ اختیار کر لیا ہے، جس میں صارفین کو جعلی پیغامات اور مشکوک لنکس کے ذریعے میلویئر انسٹال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ سائبر سیکیورٹی ماہرین نے صارفین کو ایسے پیغامات سے محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔

اس فراڈ میں حملہ آور عام طور پر ایسے پیغامات یا لنکس استعمال کر سکتے ہیں جو بظاہر کسی معتبر سروس، سیکیورٹی الرٹ یا چیٹ جی پی ٹی سے متعلق معلوم ہوتے ہیں۔ صارف کو لنک پر کلک کرنے، فائل ڈاؤن لوڈ کرنے یا کسی مخصوص سافٹ ویئر کو انسٹال کرنے کے لیے کہا جاتا ہے۔ اگر صارف احتیاط نہ کرے تو اس کے ڈیوائس میں نقصان دہ سافٹ ویئر داخل ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔

میلویئر انسٹال ہونے کے بعد سائبر مجرمان مختلف حساس معلومات تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں، جن میں لاگ اِن معلومات، پاس ورڈز، ذاتی ڈیٹا اور دیگر اہم تفصیلات شامل ہو سکتی ہیں۔ بعض صورتوں میں نقصان دہ سافٹ ویئر صارف کی سرگرمیوں کی نگرانی یا ڈیوائس کے دیگر ڈیٹا تک رسائی کی کوشش بھی کر سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ صارفین کو کسی بھی غیر متوقع پیغام میں موجود لنک پر فوری طور پر کلک نہیں کرنا چاہیے۔ کسی فائل یا ایپلی کیشن کو انسٹال کرنے سے پہلے اس کے ذریعے اور ماخذ کی تصدیق ضروری ہے۔ اسی طرح مشکوک ای میلز، پاپ اپس اور ایسے پیغامات سے بھی محتاط رہنا چاہیے جو فوری کارروائی پر زور دیتے ہوں۔

صارفین کو یہ بھی مشورہ دیا جاتا ہے کہ اپنے آپریٹنگ سسٹم، براؤزر اور سیکیورٹی سافٹ ویئر کو اپ ڈیٹ رکھیں اور مختلف اکاؤنٹس کے لیے مضبوط اور منفرد پاس ورڈ استعمال کریں۔ دو مرحلہ تصدیقی نظام فعال کرنا بھی اکاؤنٹس کو غیر مجاز رسائی سے محفوظ رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

سائبر فراڈ کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر ماہرین کا کہنا ہے کہ آن لائن کسی بھی لنک یا پیغام پر اعتماد کرنے سے پہلے اس کی حقیقت جانچنا ضروری ہے، کیونکہ معمولی سی غفلت بھی صارف کو مالی اور ڈیجیٹل نقصان سے دوچار کر سکتی ہے۔

More News