وزیراعظم کا ایس ایم ایز کے لیے قرضوں کا حجم 2028 تک 2 ٹریلین روپے کرنے کا حکم
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کے لیے بینک قرضوں اور مالی سہولیات کا حجم جون 2028 تک 2 ٹریلین روپے تک بڑھانے کی ہدایت کردی ہے۔ حکومت کا مقصد کاروباری افراد کو آسان شرائط پر مالی معاونت فراہم کرنا، سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔
وزیراعظم نے مالیات تک رسائی کے حوالے سے منعقدہ اجلاس میں ہدایت کی کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں، زراعت اور ہاؤسنگ کے شعبوں کو قرضوں کی فراہمی میں حائل رکاوٹیں دور کی جائیں۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو مالیاتی نظام کو مؤثر بنانے اور کاروباری برادری کے لیے قرضوں کے حصول کا عمل آسان کرنے پر زور دیا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ جون 2026 تک ایس ایم ایز کے لیے بینک فنانسنگ کا حجم تقریباً 1.15 ٹریلین روپے تھا۔ حکومت نے اسے جون 2028 تک بڑھا کر 2 ٹریلین روپے کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اسی مدت کے دوران قرض حاصل کرنے والے کاروباری افراد اور اداروں کی تعداد 3 لاکھ 24 ہزار سے بڑھا کر 7 لاکھ 75 ہزار تک پہنچانے کا منصوبہ بھی ہے۔
حکومتی منصوبے کے تحت بینکوں کے مجموعی قرضوں میں ایس ایم ای فنانسنگ کا حصہ بھی موجودہ 9.9 فیصد سے بڑھا کر 13 فیصد کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے بینکوں کی کارکردگی کا جائزہ لینے اور طے شدہ اہداف پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے اسکورنگ سسٹم متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
وزیراعظم نے ایس ایم ایز کے لیے ایک آن لائن پورٹل فعال کرنے کی بھی ہدایت کی، جس کے ذریعے قرضوں کی فراہمی اور بینکوں کی کارکردگی کی نگرانی کی جا سکے گی۔ اس اقدام کا مقصد کاروباری افراد کو معلومات تک آسان رسائی فراہم کرنا اور قرضوں کے عمل میں شفافیت بڑھانا ہے۔
حکومت کے مطابق چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار ملکی معیشت، پیداوار اور روزگار کے لیے اہم ہیں۔ اس شعبے کو مناسب مالی معاونت ملنے سے کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ اور نئی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہو سکتی ہے۔ تاہم مقررہ اہداف کے حصول کا انحصار قرضوں کی بروقت فراہمی اور بینکوں کی عملی کارکردگی پر ہوگا۔








