انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر مزید سستا، روپیہ مضبوط ہوگیا

انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر مزید سستا، روپیہ مضبوط ہوگیا

کراچی: انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں مزید اضافہ ہوگیا۔ پیر 12 اکتوبر 2026 کو کاروبار کے اختتام پر ڈالر 3 پیسے سستا ہوکر 276 روپے 97 پیسے پر بند ہوا، جبکہ گزشتہ کاروباری سیشن میں ڈالر کی اختتامی قیمت 277 روپے تھی۔

فاریکس مارکیٹ کے اعداد و شمار کے مطابق روپے کی قدر میں معمولی بہتری ریکارڈ کی گئی ہے۔ انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں کمی سے پاکستانی کرنسی کی قدر میں استحکام کا رجحان برقرار رہا۔ تاہم ڈالر کی قیمت میں یہ کمی محدود رہی اور مارکیٹ میں مجموعی اتار چڑھاؤ پر نظر رکھی جا رہی ہے۔

دوسری جانب اوپن مارکیٹ میں بھی ڈالر کے نرخ نمایاں اہمیت رکھتے ہیں، جہاں عوام، کاروباری افراد اور بیرون ملک سے رقوم وصول کرنے والے افراد غیر ملکی کرنسی کا تبادلہ کرتے ہیں۔ پیر کے روز دستیاب فاریکس ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی خریداری کا نرخ 277 روپے 60 پیسے جبکہ فروخت کا نرخ 278 روپے 20 پیسے رہا۔

معاشی ماہرین اور کاروباری حلقوں کی توجہ روپے اور ڈالر کی قیمت میں ہونے والی تبدیلیوں پر مرکوز رہتی ہے، کیونکہ شرحِ تبادلہ ملکی درآمدات، بیرونی ادائیگیوں اور کاروباری لاگت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ ڈالر کی قیمت میں کمی سے درآمدی اشیا کی لاگت پر دباؤ کم ہونے کا امکان پیدا ہوسکتا ہے، تاہم اس کا انحصار عالمی منڈی کی قیمتوں، ٹیکسوں، ٹرانسپورٹ اخراجات اور دیگر عوامل پر بھی ہوتا ہے۔

پاکستان میں ڈالر کی قدر بیرونی ادائیگیوں، درآمدات و برآمدات، زرمبادلہ کی طلب اور رسد سمیت مختلف عوامل سے متاثر ہوتی ہے۔ اسی لیے روپے کی قدر میں بہتری کے اثرات جانچنے کے لیے صرف ایک روز کی تبدیلی کے بجائے طویل مدتی رجحان کو دیکھنا ضروری ہے۔

ڈالر کی قیمت میں مسلسل کمی سے کاروباری منصوبہ بندی اور غیر ملکی ادائیگیوں سے متعلق توقعات پر اثر پڑ سکتا ہے، تاہم موجودہ کمی کو بنیاد بنا کر مستقبل میں ڈالر کی قیمت کے بارے میں حتمی پیشگوئی نہیں کی جا سکتی۔ سرمایہ کاروں، تاجروں اور عام شہریوں کے لیے ضروری ہے کہ غیر ملکی کرنسی کے تبادلے سے قبل تازہ نرخوں کی تصدیق کریں۔

More News