چاند سکڑنے لگا، سطح پر 10 ہزار سے زائد نئی فالٹ لائنز دریافت

چاند سکڑنے لگا، سطح پر 10 ہزار سے زائد نئی فالٹ لائنز دریافت

سائنس دانوں نے چاند کی سطح پر 10 ہزار سے زیادہ نسبتاً نئی فالٹ لائنز اور دراڑوں کی نشاندہی کی ہے، جس سے چاند کے بتدریج سکڑنے کے عمل سے متعلق اہم معلومات سامنے آئی ہیں۔

14 اکتوبر 2026 کو سائنسی جریدے دی پلینیٹری سائنس جرنل میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق گزشتہ 40 کروڑ سے 80 کروڑ سال کے دوران چاند کے نصف قطر میں تقریباً 45 میٹر کی کمی ہوئی ہے۔

محققین کا اندازہ ہے کہ اگر چاند کے سکڑنے کی رفتار کو یکساں تصور کیا جائے تو اس کے نصف قطر میں ہر 10 لاکھ سال کے دوران تقریباً 6 سے 11 سینٹی میٹر کمی واقع ہو سکتی ہے۔ یہ نتائج چاند کی ارضیاتی تاریخ اور اس کی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں کو سمجھنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

تحقیق کی قیادت تھامس آر واٹرز نے کی، جبکہ سائنس دانوں کی ٹیم نے ناسا کے لونر ریکونیسنس آربیٹر پر نصب کیمرے سے حاصل ہونے والی تصاویر اور مشاہدات کا تجزیہ کیا۔

محققین نے چاند کی سطح پر موجود ہزاروں زمینی ساختوں کا نقشہ تیار کیا، جن میں لوبیٹ اسکارپس اور چھوٹی میئر رِجز شامل ہیں۔ یہ ساختیں چاند کے اندرونی حصے کے ٹھنڈا ہونے اور سکڑنے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے دباؤ سے بن سکتی ہیں۔

تحقیق کے مطابق یہ ساختیں چاند کے پہاڑی علاقوں اور نسبتاً ہموار میدانوں سمیت مختلف حصوں میں پائی گئی ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چاند کا سکڑاؤ کسی ایک علاقے تک محدود نہیں بلکہ اس کی سطح پر وسیع پیمانے پر ارضیاتی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔

More News

Latest

انگور اڈہ پر افغان طالبان کی جارحیت ناقابلِ برداشت ہے، ملکی خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں ہوگا، گورنر فیصل کریم کنڈی

انگور اڈہ پر افغان طالبان کی جارحیت ناقابلِ برداشت ہے، ملکی خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں ہوگا، گورنر فیصل کریم کنڈی پشاور: گورنر خیبر پختونخوا فیصل

Read More »