نیب جسمانی ریمانڈ 40 روز کرنے کے آرڈیننس کے خلاف درخواست غیر مؤثر قرار، اسلام آباد ہائیکورٹ
اسلام آباد ہائیکورٹ نے قومی احتساب بیورو (نیب) کی حراست میں جسمانی ریمانڈ کی مدت 14 روز سے بڑھا کر 40 روز کرنے کے آرڈیننس کے خلاف دائر آئینی درخواست غیر مؤثر ہونے پر نمٹا دی۔ عدالت نے قرار دیا کہ آرڈیننس کی میعاد ختم ہونے کے بعد اس کی آئینی حیثیت پر رائے دینا غیر ضروری ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق، جب زیرِ اعتراض آرڈیننس اپنی مدت پوری کر چکا ہو تو اس کی آئینی حیثیت کا جائزہ لینے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ اسی بنیاد پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے درخواست پر مزید کارروائی کیے بغیر اسے نمٹا دیا۔
نیب کے جسمانی ریمانڈ سے متعلق یہ معاملہ احتسابی قوانین اور ملزمان کے قانونی حقوق کے تناظر میں اہمیت رکھتا ہے۔ جسمانی ریمانڈ کے دوران تفتیشی ادارے ملزم کو اپنی تحویل میں رکھ کر تفتیش کرتے ہیں، تاہم اس عمل کے لیے قانون میں مقررہ حدود اور عدالتی نگرانی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
جسمانی ریمانڈ کی مدت 14 روز سے بڑھا کر 40 روز کرنے کے آرڈیننس کے خلاف درخواست میں قانونی اور آئینی پہلوؤں کا جائزہ لینے کی استدعا کی گئی تھی۔ تاہم عدالت نے آرڈیننس کی میعاد ختم ہونے کے باعث اس کی آئینی حیثیت پر فیصلہ دینے کو غیر ضروری قرار دیا۔
قانونی ماہرین کے لیے ایسے معاملات میں یہ نکتہ اہم ہوتا ہے کہ کسی قانونی حکم یا آرڈیننس کی مدت ختم ہونے کے بعد عدالت اس کے آئینی جواز کا جائزہ لے یا معاملے کو غیر مؤثر ہونے کی بنیاد پر نمٹا دے۔ موجودہ معاملے میں عدالت نے آرڈیننس کی میعاد ختم ہونے کو درخواست نمٹانے کی بنیاد بنایا۔
واضح رہے کہ درخواست کو غیر مؤثر ہونے کی بنیاد پر نمٹانے کا مطلب یہ نہیں کہ عدالت نے آرڈیننس کو آئینی یا غیر آئینی قرار دے دیا ہے۔ عدالت کے بیان کردہ مؤقف کے مطابق، آرڈیننس کی میعاد ختم ہونے کے بعد اس کی آئینی حیثیت پر رائے دینا ضروری نہیں رہا۔








