خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع کے مالی معاملات وفاق کے حوالے کرنے کا فیصلہ

خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع کے مالی معاملات وفاق کے حوالے کرنے کا فیصلہ

ترقیاتی و غیر ترقیاتی بجٹ کی تفصیلات طلب، ڈی آئی خان، بنوں، ٹانک اور لکی مروت کے مالی حصے پر بھی ابہام پیدا ہوگیا

پشاور:خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع کے مالی معاملات اور ترقیاتی منصوبوں کو صوبائی حکومت کے دائرہ اختیار سے الگ کرکے وفاق کے حوالے کرنے کی تیاری شروع کردی گئی ہے۔ اس سلسلے میں محکمہ خزانہ اور محکمہ منصوبہ بندی کو ضروری کاغذی کارروائی مکمل کرنے اور ترقیاتی و غیر ترقیاتی بجٹ کے اعداد و شمار مرتب کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد وفاق کے زیر انتظام دیے جانے والے ان اضلاع کے مالی اور انتظامی معاملات کا ازسرنو جائزہ لیا جارہا ہے۔ مجوزہ انتظام کے تحت ان اضلاع کے ترقیاتی منصوبوں کی تیاری، مشاورت، منظوری اور عمل درآمد سے متعلق اختیارات صوبائی حکومت کے بجائے وفاق کے دائرہ اختیار میں آنے کا امکان ہے۔

ذرائع کے مطابق وفاقی اور صوبائی حکام کے درمیان مالی معاملات پر رابطے جاری ہیں، تاہم بجٹ، ترقیاتی فنڈز اور دیگر اخراجات سے متعلق تاحال کوئی حتمی لائحہ عمل طے نہیں پایا۔ حکومت نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی ہے کہ ان اضلاع کے ترقیاتی اور غیر ترقیاتی اخراجات کی تفصیلات تیار کی جائیں تاکہ آئندہ مالی انتظامات کا تعین کیا جاسکے۔

دوسری جانب ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں، ٹانک اور لکی مروت کے انتظامی معاملات وفاق کے پاس جانے کے حوالے سے بھی مالی وسائل کی تقسیم پر ابہام پیدا ہوگیا ہے۔ ان اضلاع کے مالی حصے، ترقیاتی بجٹ اور اخراجات کی ذمہ داری کے تعین کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مشاورت جاری ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کے تحت صوبوں کے مالی حصوں میں تبدیلی آئینی و قانونی طریقہ کار سے مشروط ہے، اس لیے خیبرپختونخوا کے حصے میں کسی بھی ردوبدل کے لیے متعلقہ آئینی تقاضے پورے کرنا ہوں گے۔

محکمہ خزانہ خیبرپختونخوا اور وفاقی وزارت خزانہ کے درمیان اس معاملے پر رابطے جاری ہیں، تاہم اضلاع کے مالی وسائل، ترقیاتی منصوبوں کی فنڈنگ اور صوبے کے این ایف سی حصے کے حوالے سے تاحال کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔

More News