پشاور ہائیکورٹ نے قتل کیس میں بریت کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا، ملزم کو عمر قید
پشاور: پشاور ہائیکورٹ نے دوستی سے انکار پر خاتون کو قتل اور دیگر افراد کو زخمی کرنے کے مقدمے میں ملزم کی بریت کے خلاف اپیل منظور کرتے ہوئے بریت کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا اور ملزم بہلول احسان کو عمر قید کی سزا سنا دی۔ جسٹس صاحبزادہ اللہ نے مقدمے کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ملزم بہلول احسان نے دوستی سے انکار پر مدعی شاہ وید کے گھر میں گھس کر فائرنگ کی تھی، جس کے نتیجے میں مدعی کی والدہ جاں بحق جبکہ مدعی اور اس کی بہن شدید زخمی ہو گئے تھے۔ واقعہ 16 اپریل 2016 کو کوہاٹ میں تھانہ استرزئی کی حدود میں پیش آیا تھا۔
فیصلے کے مطابق ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کوہاٹ نے یکم جون 2019 کو ملزم کو مقدمے سے بری کر دیا تھا، جس کے خلاف مدعی نے پشاور ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی۔
پشاور ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ سیشن کورٹ شواہد کے مختلف پہلوؤں کا درست تناظر میں جائزہ لینے میں ناکام رہی اور مجموعی شواہد کے اثر کو نظر انداز کیا گیا۔ عدالت کے مطابق استغاثہ نے ملزم کے خلاف قابل اعتماد اور ٹھوس شواہد پیش کرکے اپنا مقدمہ ثابت کیا۔
عدالت نے ملزم کو قتل کے جرم میں عمر قید، دیگر دفعات کے تحت مجموعی طور پر 12 سال قید اور قتل، اقدام قتل سمیت دیگر جرائم میں مجموعی طور پر 9 لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی۔ فیصلے کے بعد پولیس نے ملزم کو حراست میں لے کر جیل منتقل کر دیا۔








