خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی سے جوڑی گئی ویڈیو جعلی نکلی، یکم مارچ کی فوٹیج کو 11 اکتوبر سے منسوب کرنے کا انکشاف
پشاور: سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو، جسے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد کی صورتحال قرار دیا جا رہا تھا، غلط اور گمراہ کن ثابت ہوئی ہے۔ ڈیجیٹل تحقیقات کے مطابق ویڈیو کا تعلق رواں سال مارچ میں اسلام آباد میں ہونے والے ایک احتجاج سے ہے، نہ کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ سے۔
تفصیلات کے مطابق 24 اکتوبر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس سمیت مختلف اکاؤنٹس پر 12 سیکنڈ کی ایک ویڈیو شیئر کی گئی، جس میں سڑک پر آگ جلتی ہوئی اور قریب پولیس اہلکار موجود دکھائی دیتے ہیں۔ ویڈیو کے ساتھ پشتو زبان میں دعویٰ کیا گیا کہ پورے پاکستان میں ایمرجنسی نافذ ہو چکی ہے اور صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے۔
یہ پوسٹ تیزی سے پھیلی اور ہزاروں صارفین نے اسے دیکھا اور دوبارہ شیئر کیا، جس کے نتیجے میں عوام میں تشویش اور افواہوں کے پھیلنے کا خدشہ پیدا ہوا۔
فیکٹ چیک اور ریورس امیج سرچ کے ذریعے ویڈیو کے اصل ماخذ کا سراغ لگایا گیا۔ دستیاب معلومات کے مطابق یہی فوٹیج یکم مارچ 2026 کو انسٹاگرام پر اپ لوڈ کی گئی تھی، جہاں اس کا مقام اسلام آباد بتایا گیا تھا۔ اس طرح ویڈیو کو اکتوبر میں خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کی صورتحال سے جوڑنے کا دعویٰ درست نہیں پایا گیا۔
یہ واقعہ سوشل میڈیا پر پرانی ویڈیوز کو نئے واقعات سے منسوب کرکے پھیلانے کے خطرے کو اجاگر کرتا ہے۔ صارفین کو چاہیے کہ کسی بھی ویڈیو یا خبر کو شیئر کرنے سے پہلے اس کی تاریخ، مقام اور اصل ماخذ کی تصدیق کریں تاکہ غیر مصدقہ معلومات اور افواہوں کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔








