گزشتہ حکومت نے صوبے میں امن و امان کے قیام کے لیے بھی کوئی اقدامات نہیں کیے، امیر مقام

گزشتہ حکومت نے صوبے میں امن و امان کے قیام کے لیے بھی کوئی اقدامات نہیں کیے، امیر مقام

وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے خیبرپختونخوا کی سابقہ صوبائی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ حکومت نے صوبے میں امن و امان کے قیام کے لیے بھی کوئی مؤثر اقدامات نہیں کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں بدامنی اور دہشت گردی کے واقعات عوام کے لیے مسلسل تشویش کا باعث بنے ہوئے ہیں۔

امیر مقام نے اپنے بیان میں کہا کہ خیبرپختونخوا گزشتہ کئی برسوں سے امن و امان کے سنگین مسائل کا سامنا کر رہا ہے، لیکن سابقہ حکومت نے اس اہم مسئلے سے نمٹنے کے لیے سنجیدہ حکمت عملی اختیار نہیں کی۔ ان کے مطابق امن و امان کا قیام کسی بھی حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اس حوالے سے غفلت کے نتائج عام شہریوں کو بھگتنا پڑتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صوبے کے مختلف اضلاع میں دہشت گردی کے واقعات، پولیس اہلکاروں پر حملے اور شہریوں کو درپیش سکیورٹی خدشات ایک بڑا چیلنج ہیں۔ ایسے حالات میں ضروری تھا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مزید مضبوط بنایا جاتا اور امن کے قیام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جاتے۔

امیر مقام کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کے عوام نے ہمیشہ امن، ترقی اور خوشحالی کی خواہش کی ہے، لیکن بدامنی کے باعث کاروباری سرگرمیاں، تعلیمی نظام اور معمولات زندگی بھی متاثر ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق صوبے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔

انہوں نے زور دیا کہ حکومت کو عوام کے جان و مال کے تحفظ کو اولین ترجیح دینی چاہیے اور پولیس سمیت دیگر سکیورٹی اداروں کی استعداد کار بڑھانے کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔

امیر مقام کے اس بیان کو خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال اور سابقہ صوبائی حکومت کی کارکردگی کے حوالے سے جاری سیاسی تنقید کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

More News

Breaking

خیبرپختونخوا میں 32 سرکاری اداروں کا انتظامی کنٹرول علاقائی ترقیاتی سیکریٹریٹس کو منتقل

خیبرپختونخوا میں 32 سرکاری اداروں کا انتظامی کنٹرول علاقائی ترقیاتی سیکریٹریٹس کو منتقل پشاور: گورنر خیبرپختونخوا نے نامزد اضلاع میں 32 سرکاری اداروں اور ڈائریکٹوریٹس

Read More »