خیبرپختونخوا میں 32 سرکاری اداروں کا انتظامی کنٹرول علاقائی ترقیاتی سیکریٹریٹس کو منتقل
پشاور: گورنر خیبرپختونخوا نے نامزد اضلاع میں 32 سرکاری اداروں اور ڈائریکٹوریٹس کا انتظامی کنٹرول علاقائی ترقیاتی سیکریٹریٹس کو منتقل کرنے کے انتظامات کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔ اس سلسلے میں چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا کے دستخط سے نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق مخصوص اضلاع میں مختلف محکموں کے ڈائریکٹوریٹس اب اپنے متعلقہ محکموں کے سربراہان کے بجائے براہِ راست علاقائی ترقیاتی سیکریٹریز کو رپورٹ کریں گے۔ اس اقدام کے تحت متعلقہ ڈائریکٹوریٹس کے فرائض، دفتری ریکارڈ، اثاثے، سامان اور دیگر دفتری وسائل بھی علاقائی ترقیاتی سیکریٹریٹس کو منتقل کیے جائیں گے۔
انتظامی تبدیلی کے تحت ایڈیشنل چیف سیکریٹری نامزد اضلاع کے متعلقہ افسران کو علاقائی ترقیاتی سیکریٹریز کے ماتحت مقرر کریں گے۔ جبکہ ان 32 اداروں کے افسران اور عملے کے تبادلوں کا اختیار براہِ راست چیف سیکریٹری کی منظوری سے مشروط ہوگا۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ انتظامی کنٹرول کی منتقلی سے سرکاری افسران اور ملازمین کے عہدوں، سنیارٹی، پنشن اور دیگر سروس فوائد پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ تمام متعلقہ ادارے فی الحال اپنے موجودہ دفاتر سے ہی کام جاری رکھیں گے۔
مالی امور کے حوالے سے محکمہ خزانہ تنخواہوں، بجٹ، آپریشنل اخراجات اور ترقیاتی فنڈز کے انتظامات سنبھالے گا، جبکہ متعلقہ علاقائی ترقیاتی سیکریٹریز ان اداروں کے انتظامی معاملات کے ذمہ دار ہوں گے۔
اس فیصلے کے تحت شامل 32 اداروں میں اوقاف، اعلیٰ تعلیم، آثارِ قدیمہ، وائلڈ لائف، خوراک، ماحولیاتی تحفظ، ہائی ویز اتھارٹی، فوڈ سیفٹی، ہاؤسنگ اتھارٹی، محکمہ محنت، معدنیات، توانائی، ٹرانسپورٹ، سول ڈیفنس، ریسکیو 1122، اینٹی کرپشن، جیل خانہ جات، پراسیکیوشن، ایکسائز، لینڈ ریکارڈز اور لوکل کونسل بورڈ سمیت دیگر ادارے شامل ہیں۔
اس انتظامی فیصلے کے تحت نامزد اضلاع میں سرکاری اداروں کی رپورٹنگ اور انتظامی نگرانی کا نظام تبدیل ہوگا، جبکہ ملازمین کے موجودہ سروس حقوق اور دفاتر برقرار رہیں گے۔








