خیبرپختونخوا کے صحت کارڈ پلس پروگرام میں ادویات اور طبی سامان مہنگے داموں خریدنے کا انکشاف

خیبرپختونخوا کے صحت کارڈ پلس پروگرام میں ادویات اور طبی سامان مہنگے داموں خریدنے کا انکشاف

خیبرپختونخوا کے صحت کارڈ پلس پروگرام میں ادویات اور طبی سامان کی خریداری کے حوالے سے مبینہ مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے، جہاں مختلف ادویات اور طبی آلات مہنگے داموں خریدے جانے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق صحت کارڈ پلس پروگرام کے تحت ادویات اور طبی سامان کی خریداری میں مقررہ قیمتوں کے مقابلے میں زیادہ ادائیگیوں کے حوالے سے سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ اس معاملے نے پروگرام کے مالی انتظامات، خریداری کے طریقہ کار اور سرکاری فنڈز کے استعمال پر توجہ مرکوز کردی ہے۔

صحت کارڈ پلس پروگرام خیبرپختونخوا کے شہریوں کو علاج معالجے کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے شروع کیا گیا تھا، جس کے تحت مستحق اور اہل افراد کو مختلف سرکاری و نجی ہسپتالوں میں علاج کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔

تاہم ادویات اور طبی سامان کی مہنگے داموں خریداری کے انکشاف کے بعد پروگرام کے تحت ہونے والے اخراجات اور خریداری کے عمل کی شفافیت سے متعلق سوالات سامنے آئے ہیں۔ سرکاری وسائل کے مؤثر استعمال اور طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے خریداری کے معاملات میں شفافیت کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔

معاشی اور انتظامی امور کے ماہرین کے مطابق سرکاری پروگراموں میں ادویات اور طبی آلات کی خریداری کے لیے مسابقتی ٹینڈرنگ، مارکیٹ ریٹس کا موازنہ اور مؤثر آڈٹ ضروری ہیں تاکہ قومی خزانے پر اضافی بوجھ سے بچا جاسکے۔

اس معاملے میں متعلقہ حکام کی جانب سے وضاحت اور خریداری کے ریکارڈ کی جانچ پڑتال اہمیت رکھتی ہے۔ اگر بے ضابطگیوں کی تصدیق ہوتی ہے تو ذمہ داروں کا تعین کرکے قانون کے مطابق کارروائی کی ضرورت ہوگی۔

صحت کارڈ پلس پروگرام سے متعلق اس انکشاف نے صوبے میں صحت کے شعبے کے مالی انتظامات اور احتساب کے نظام پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

More News