ضلع خیبر میں 13 ماہ کی بچی میں پولیو وائرس کی تصدیق، رواں سال دوسرا کیس سامنے آگیا

ضلع خیبر میں 13 ماہ کی بچی میں پولیو وائرس کی تصدیق، رواں سال دوسرا کیس سامنے آگیا

خیبر: ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ کی یونین کونسل جانباز اے میں 13 ماہ کی بچی میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوگئی، جس کے بعد رواں سال ضلع خیبر میں پولیو کیسز کی تعداد 2 ہوگئی ہے۔ محکمہ صحت کے مطابق خیبر پختونخوا میں رواں سال اب تک پولیو کے 6 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں، جبکہ ملک بھر میں متاثرہ بچوں کی مجموعی تعداد 8 ہوگئی ہے۔

محکمہ صحت کے مطابق تحصیل باڑہ کی یونین کونسل جانباز اے میں 13 ماہ کی بچی کے نمونوں میں پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے۔ کیس سامنے آنے کے بعد محکمہ صحت اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے انسدادِ پولیو سرگرمیوں کو مزید مؤثر بنانے پر توجہ دی جارہی ہے۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر خیبر جنرل شہاب الدین نے نئے پولیو کیس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ضلع خیبر میں بچوں کو اس موذی مرض سے محفوظ رکھنے کے لیے متعدد پولیو مہمات جاری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلسل پولیو مہمات کا مقصد پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانا اور وائرس کے پھیلاؤ کو روکنا ہے۔

حکام کے مطابق خیبر پختونخوا میں رواں سال اب تک پولیو کے 6 کیسز سامنے آئے ہیں، جن میں ضلع بنوں کے 3، ضلع خیبر کے 2 اور شمالی وزیرستان کا ایک کیس شامل ہے۔ اس طرح صوبے کے مختلف اضلاع میں پولیو وائرس کی موجودگی محکمہ صحت کے لیے تشویش کا باعث ہے۔

دوسری جانب ملک بھر میں 2026 کے دوران اب تک پولیو کے 8 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں، جن میں خیبر پختونخوا کے 6 جبکہ سندھ کے 2 کیسز شامل ہیں۔

محکمہ صحت کے حکام نے والدین پر زور دیا ہے کہ وہ انسدادِ پولیو مہم کے دوران اپنے پانچ سال سے کم عمر تمام بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے ضرور پلوائیں۔ حکام کے مطابق پولیو ایک خطرناک اور لاعلاج مرض ہے، جو بچوں کو عمر بھر کی معذوری سے دوچار کرسکتا ہے، تاہم بروقت اور بار بار ویکسین پلانے سے بچوں کو اس مرض سے محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔

صحت حکام کے مطابق پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے والدین، محکمہ صحت، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کا تعاون انتہائی ضروری ہے۔

More News