نیتن یاہو کے دباؤ پر ٹرمپ ایران پر جوہری حملہ کرسکتے ہیں، امریکی صحافی کا دعویٰ
امریکی صحافی ٹکر کارلسن نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے دباؤ پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف جوہری حملے کا آپشن اختیار کرسکتے ہیں۔ تاہم یہ دعویٰ صحافی کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، اس حوالے سے امریکی حکومت کی جانب سے کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں ٹکر کارلسن نے کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو داخلی سیاسی مشکلات کا سامنا ہے اور وہ ان حالات سے نکلنے کے لیے امریکا کو ایک بار پھر ایران کے ساتھ جنگ میں شامل کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔
امریکی صحافی کے مطابق نیتن یاہو، ٹرمپ انتظامیہ میں اپنے قریبی ساتھیوں پر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔
ٹکر کارلسن نے دعویٰ کیا کہ ایران کے پہاڑوں کے اندر قائم سرنگوں اور جوہری تنصیبات تک پہنچنے کے لیے روایتی امریکی ہتھیار مؤثر ثابت نہیں ہوسکتے، جس کے باعث جوہری حملے کا امکان زیرِ بحث آسکتا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز دعویٰ کیا تھا کہ امریکا ایران کے جوہری پروگرام کو تباہ کرچکا ہے، تاہم ایک یا دو مقامات باقی ہیں جن سے نمٹنے میں صرف دس منٹ لگ سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ ٹکر کارلسن کا بیان ایک دعویٰ ہے، اسے امریکی حکومت کی جانب سے جوہری حملے کے فیصلے یا منصوبہ بندی کی تصدیق نہیں سمجھا جا سکتا۔








