آئی ایم ایف کا ٹیکس ریونیو میں کمی پر اظہار تشویش، ہنگامی ٹیکس اقدامات کی تجویز

آئی ایم ایف کا ٹیکس ریونیو میں کمی پر اظہار تشویش، ہنگامی ٹیکس اقدامات کی تجویز

اسلام آباد: عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان میں ٹیکس ریونیو کے مقررہ اہداف حاصل نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شارٹ فال پورا کرنے کے لیے ہنگامی ٹیکس اقدامات کی تجویز دے دی ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے نے حکومت پاکستان پر زور دیا ہے کہ رواں مالی سال کے لیے مقرر کردہ 15 ہزار 264 ارب روپے کے ٹیکس وصولی کے سالانہ ہدف کو ہر صورت پورا کیا جائے۔

ذرائع کے مطابق اکتوبر 2026 کے دوران ٹیکس وصولیوں میں 129 ارب روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ جولائی سے اکتوبر تک مجموعی طور پر 96 ارب روپے کا ٹیکس شارٹ فال سامنے آیا ہے۔ ٹیکس محاصل میں کمی کے باعث آئی ایم ایف نے موجودہ ریونیو صورتحال پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے اور حکومت کو فوری اقدامات کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ عالمی مالیاتی فنڈ نے ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح میں اضافے کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے وفاقی اور صوبائی سطح پر جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کی وصولیوں میں بہتری لانے کی تجویز دی ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق ٹیکس نیٹ کو وسیع کیے بغیر اور ٹیکس وصولیوں کا نظام مؤثر بنائے بغیر مقررہ اہداف حاصل کرنا مشکل ہوگا۔

دوسری جانب فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ذرائع کے مطابق اگر ٹیکس وصولیوں میں کمی کا سلسلہ جاری رہا اور شارٹ فال میں مزید اضافہ ہوا تو حکومت کے سامنے نئے ٹیکس عائد کرنے یا سرکاری اخراجات میں کمی کرنے کے آپشنز زیر غور آ سکتے ہیں۔ اس حوالے سے ہنگامی اقدامات پر بھی بات چیت متوقع ہے۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے آئندہ مالی سال کے لیے بھی ٹیکس وصولیوں سے متعلق شرائط مزید سخت کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ اگر موجودہ مالی سال کے اہداف حاصل نہ ہوئے تو آئندہ اقتصادی جائزوں کے دوران پاکستان کے لیے نئی شرائط اور اضافی اقدامات تجویز کیے جانے کا امکان ہے۔

عالمی مالیاتی فنڈ نے نئے بجٹ کی تیاری سے قبل ریٹیل، ہول سیل اور زرعی شعبے کو مؤثر انداز میں ٹیکس نیٹ میں لانے پر زور دیا ہے۔ اس کے علاوہ پروفیشنلز سمیت ان تمام شعبوں سے ٹیکس وصولی کی تجویز دی گئی ہے جو اب تک ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں۔

معاشی ماہرین کے مطابق ٹیکس وصولیوں میں کمی حکومت کے لیے ایک بڑا مالیاتی چیلنج بن سکتی ہے، کیونکہ آمدن کے اہداف پورے نہ ہونے کی صورت میں بجٹ خسارے اور مالیاتی دباؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 7 ارب ڈالر کے قرض پروگرام کے تحت طے پانے والی شرائط پر عمل درآمد ضروری ہے۔ ٹیکس اہداف میں مسلسل کمی آئندہ اقتصادی جائزوں اور حکومتی مالیاتی پالیسی کے لیے اہم مسئلہ بن سکتی ہے۔

More News