ادویات پر 2D بارکوڈ کے نفاذ میں تاخیر، ڈیٹا جمع نہ کرانے والی کمپنیوں کے یونٹس سیل کرنے کا فیصلہ

ادویات پر 2D بارکوڈ کے نفاذ میں تاخیر، ڈیٹا جمع نہ کرانے والی کمپنیوں کے یونٹس سیل کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد: وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کی زیر صدارت ادویات پر 2D بارکوڈ کے نفاذ سے متعلق پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں سی ای او ڈریپ، متعلقہ اداروں کے حکام اور فارماسیوٹیکل انڈسٹری کے نمائندوں نے شرکت کی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ تقریباً 80 فیصد فارماسیوٹیکل کمپنیوں نے اپنی ادویات پر 2D بارکوڈ کے نفاذ کا عمل شروع کر دیا ہے، تاہم بعض کمپنیوں کی جانب سے تاحال مطلوبہ ڈیٹا جمع نہیں کرایا گیا۔

وزارت صحت کے مطابق ڈیٹا فراہم نہ کرنے والی کمپنیوں کو باضابطہ نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ مقررہ مہلت کے باوجود احکامات پر عمل درآمد نہ کرنے والی کمپنیوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی، جبکہ ادویات کا مطلوبہ ڈیٹا جمع نہ کرانے والی کمپنیوں کے پیداواری یونٹس سیل کیے جائیں گے۔

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک سے جعلی ادویات کا خاتمہ ناگزیر ہو چکا ہے اور اس مقصد کے لیے 2D بارکوڈ کے نفاذ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس معاملے میں زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔

انہوں نے تمام فارماسیوٹیکل کمپنیوں کو ہدایت کی کہ وہ مقررہ تقاضوں کے مطابق اپنا سیریلائزیشن ڈیٹا ہر صورت ڈریپ کے پاس جمع کرائیں۔

اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ 2D بارکوڈ نظام کے ذریعے ادویات کی شناخت، نگرانی اور ترسیل کے مراحل کو مؤثر بنایا جا سکے گا، جس سے شفافیت اور ٹریک اینڈ ٹریس نظام کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔

More News