خلیجی خطے میں کشیدگی کے باوجود پاکستان کی چاول برآمدات میں 51 فیصد اضافہ
اسلام آباد: خلیجی خطے میں کشیدگی اور عالمی بحری راستوں میں رکاوٹوں کے باوجود پاکستان کی چاول برآمدات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ستمبر 2026 کے دوران پاکستان نے چاول کی برآمدات میں ویتنام کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ستمبر 2026 میں پاکستان نے عالمی منڈیوں کو 4 لاکھ 20 ہزار ٹن چاول برآمد کیے، جبکہ دنیا کے تیسرے بڑے چاول برآمد کنندہ ملک ویتنام کی برآمدات 3 لاکھ 37 ہزار ٹن رہیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی اور خلیجی خطے میں بحری نقل و حمل کو درپیش مشکلات کے باوجود عالمی منڈی میں پاکستانی چاول، خصوصاً باسمتی کی طلب برقرار رہی، جس کے نتیجے میں برآمدات میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی، یعنی جولائی سے ستمبر 2026 کے دوران پاکستان کی چاول برآمدات کے مجموعی حجم میں گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 51 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اسی عرصے کے دوران چاول کی برآمدات سے حاصل ہونے والے زرمبادلہ میں بھی 37 فیصد اضافہ ہوا، جو عالمی منڈی میں پاکستانی چاول کی بڑھتی ہوئی طلب کی نشاندہی کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق چاول کی برآمدات میں اضافے سے پاکستان کو قیمتی زرمبادلہ حاصل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم عالمی منڈی میں اپنی مسابقت برقرار رکھنے کے لیے چاول کے معیار کو بہتر بنانے، پیداواری لاگت کم کرنے اور برآمدی ترسیل کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔








