سندھ میں گندم کی امدادی قیمت 4500 روپے فی من مقرر، آٹا 17 روپے سستا ہونے کا امکان

سندھ میں گندم کی امدادی قیمت 4500 روپے فی من مقرر، آٹا 17 روپے سستا ہونے کا امکان

سندھ حکومت نے گندم کی امدادی قیمت میں کمی کرتے ہوئے اسے 5 ہزار روپے سے گھٹا کر 4500 روپے فی من مقرر کردیا ہے۔ سینئر وزیر سندھ شرجیل انعام میمن کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے صوبے میں آٹے کی قیمت میں بھی کمی آئے گی اور عوام کو ریلیف ملے گا۔

کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن نے بتایا کہ گندم کی قیمت کم کرنے کا مقصد عوام کو بنیادی غذائی ضرورت سستے داموں فراہم کرنا ہے۔ ان کے مطابق گندم کی نئی قیمت مقرر ہونے سے آٹا بھی تقریباً 17 روپے فی کلو سستا ہوگا۔

سینئر وزیر سندھ نے کہا کہ صوبائی حکومت کی ترجیحات میں عوام کو ریلیف فراہم کرنا شامل ہے اور آٹے کی قیمتوں میں کمی اسی سلسلے کی ایک کوشش ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ گندم کی قیمت میں کمی کے اثرات عوام تک منتقل ہوں گے۔

شرجیل میمن نے کراچی کے انتظامی اور ٹریفک مسائل سے متعلق بھی اہم اعلانات کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ کچی آبادیوں کو ون ونڈو آپریشن کے تحت قانونی حیثیت دینے اور ریگولرائز کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جو اس حوالے سے اقدامات کا جائزہ لے گی۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں اسمارٹ ٹریفک مینجمنٹ سسٹم متعارف کرایا جائے گا، جبکہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ ان کے مطابق شہر میں ٹریفک کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے قانون پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔

سیاسی جلسوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ کسی بھی سیاسی جماعت کو جلسہ کرنے کے لیے باقاعدہ اجازت لینا ہوگی اور اجازت کے بغیر کسی جماعت کو جلسے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

انہوں نے ایم کیو ایم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ شارع فیصل پر جلسے کی اجازت نہیں ہوگی اور حکومت ایم کیو ایم کو 12 مئی کا واقعہ دہرانے کی اجازت نہیں دے گی۔

More News