نیوزی لینڈ کے ایوی ایشن ماہر ایڈرین ہیملٹن مینز پی آئی اے کے نئے سی ای او مقرر
تین ایئرلائنز کے سابق چیف ایگزیکٹو 30 سال سے زائد تجربہ رکھتے ہیں، قومی ایئرلائن کی بحالی اور منافع بخش بنانے کا اہم ٹاسک سونپ دیا گیا۔
اسلام آباد: پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کو نیا چیف ایگزیکٹو آفیسر مل گیا ہے۔ نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والے تجربہ کار ایوی ایشن ایگزیکٹو ایڈرین ہیملٹن مینز نے قومی ایئرلائن کے نئے سی ای او کی حیثیت سے باضابطہ طور پر ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔
پی آئی اے کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے 2 نومبر 2026 کو ان کی تقرری کا اعلان کیا تھا۔ ایئرلائن کی انتظامیہ کے مطابق ایڈرین ہیملٹن مینز کو عالمی ہوا بازی کے شعبے میں قیادت، انتظامی امور اور کاروباری حکمت عملی کا وسیع تجربہ حاصل ہے۔ ان کا پیشہ ورانہ کیریئر 30 سال سے زائد عرصے پر محیط ہے۔
پی آئی اے کے مطابق نئے سی ای او ماضی میں تین مختلف ایئرلائنز کے سربراہ کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں۔ انہیں ایئرلائنز کی تنظیم نو، مالیاتی اور انتظامی اصلاحات، آپریشنز کی بہتری اور خسارے میں چلنے والے اداروں کی بحالی کا ماہر قرار دیا جاتا ہے۔
ایڈرین ہیملٹن مینز اس سے قبل عمان کی نجی ایئرلائن سلام ایئر اور قازقستان کی فلائی آریستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر رہ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے ساؤتھ افریقن ایئرویز اور ورجن آسٹریلیا سمیت دیگر بین الاقوامی ایوی ایشن اداروں میں بھی اہم عہدوں پر کام کیا ہے۔
ان کی تقرری ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پی آئی اے انتظامیہ قومی ایئرلائن کو مالی طور پر مستحکم، آپریشنل طور پر مؤثر اور بین الاقوامی سطح پر مسابقت کے قابل بنانے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔
دوسری جانب پی آئی اے کے بورڈ اور انتظامیہ نے سبکدوش ہونے والے چیف ایگزیکٹو آفیسر ایئر وائس مارشل عامر حیات کی خدمات کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا ہے۔ عامر حیات نے تقریباً ساڑھے چار سال تک قومی ایئرلائن کی قیادت کی۔
پی آئی اے انتظامیہ کے مطابق ان کے دور میں ایئرلائن کو درپیش مختلف انتظامی اور آپریشنل چیلنجز سے نمٹنے، فضائی تحفظ کے معیار میں بہتری اور یورپ و برطانیہ کے لیے پروازوں کی بحالی میں پیش رفت ہوئی۔
نئے سی ای او سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اپنے بین الاقوامی تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے پی آئی اے کی سروسز کا معیار بہتر بنانے، آپریشنل اخراجات میں کمی، بیڑے میں توسیع اور پائیدار منافع کے حصول کے لیے اقدامات کریں گے۔








