کرپشن کی روک تھام کے لیے افسران کا دو سال بعد تبادلہ کیا جائے گا، احسن اقبال

کرپشن کی روک تھام کے لیے افسران کا دو سال بعد تبادلہ کیا جائے گا، احسن اقبال

وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ سرکاری اداروں میں کرپشن کی روک تھام اور انتظامی شفافیت یقینی بنانے کے لیے افسران کے تبادلوں کا نیا طریقہ کار متعارف کرایا جائے گا، جس کے تحت افسران کو دو سال بعد تبدیل کیا جائے گا۔

احسن اقبال کے مطابق سرکاری افسران کی ایک ہی عہدے یا مقام پر طویل عرصے تک تعیناتی مختلف انتظامی مسائل اور بدعنوانی کے خدشات پیدا کر سکتی ہے۔ اس لیے افسران کی مقررہ مدت کے بعد تبدیلی کو ضروری سمجھا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت سرکاری محکموں میں شفافیت اور میرٹ کے فروغ کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ افسران کے تبادلوں کا مقصد انتظامی نظام کو بہتر بنانا اور کسی بھی قسم کی غیر ضروری وابستگی یا اثر و رسوخ کے امکانات کو کم کرنا ہے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ سرکاری اداروں میں احتساب اور جواب دہی کا مؤثر نظام ہونا چاہیے تاکہ عوامی وسائل کا درست استعمال یقینی بنایا جا سکے۔ اس سلسلے میں انتظامی اصلاحات کے ذریعے سرکاری امور کی انجام دہی کو مزید بہتر بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق سرکاری افسران کی تعیناتی اور تبادلوں کا شفاف نظام انتظامی کارکردگی بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ تاہم اس پالیسی کے مؤثر نتائج کے لیے تبادلوں میں میرٹ، ادارہ جاتی تسلسل اور افسران کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

احسن اقبال کے بیان کے بعد سرکاری افسران کی تعیناتی اور تبادلوں سے متعلق مجوزہ پالیسی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ تاہم اس نظام کے نفاذ، دائرہ کار اور باقاعدہ طریقہ کار کی مزید تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔

 

More News