جناح اسپتال میں ریبیز انسیفلائٹس کا ایک اور کم عمر مریض جاں بحق
جناح اسپتال میں ریبیز انسیفلائٹس کا ایک اور کم عمر مریض دورانِ علاج دم توڑ گیا۔ جاں بحق ہونے والے 12 سالہ بچے کا تعلق بلوچستان کے علاقے جھل مگسی سے تھا۔
بچے کو ریبیز انسیفلائٹس کے باعث جناح اسپتال میں داخل کیا گیا تھا، جہاں طبی عملہ اس کا علاج کر رہا تھا۔ تاہم وہ جانبر نہ ہو سکا اور دورانِ علاج زندگی کی بازی ہار گیا۔
ریبیز انسیفلائٹس ایک سنگین بیماری ہے جو عموماً متاثرہ جانور کے کاٹنے کے بعد ریبیز وائرس کے اعصابی نظام تک پہنچنے سے پیدا ہوتی ہے۔ علامات ظاہر ہونے کے بعد یہ بیماری انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے، اسی لیے جانور کے کاٹنے کے فوراً بعد طبی امداد حاصل کرنا ضروری ہے۔
ماہرین صحت کے مطابق کتے یا کسی دوسرے مشتبہ جانور کے کاٹنے کی صورت میں زخم کو فوری طور پر صابن اور بہتے پانی سے کم از کم 15 منٹ تک دھونا چاہیے اور بلا تاخیر اسپتال یا مستند طبی مرکز سے رجوع کرنا چاہیے۔ ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق ریبیز سے بچاؤ کی ویکسین اور ضرورت پڑنے پر امیونوگلوبیولن کا استعمال جان بچانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
ریبیز سے بچاؤ کے لیے آوارہ کتوں کی ویکسینیشن، جانوروں کے کاٹنے کے واقعات کی روک تھام اور عوام میں آگاہی پیدا کرنا بھی ضروری ہے۔ خصوصاً بچوں کو آوارہ یا نامعلوم جانوروں سے دور رہنے اور کاٹنے کی صورت میں فوری طور پر والدین کو اطلاع دینے کی ہدایت کی جانی چاہیے۔
جھل مگسی سے تعلق رکھنے والے 12 سالہ بچے کی ہلاکت نے ریبیز سے بچاؤ اور بروقت طبی سہولیات کی فراہمی کی اہمیت کو ایک بار پھر اجاگر کر دیا ہے۔








