ایران امریکا تنازع ختم کرانے کے لیے قطر کا نیا سفارتی فارمولا، جوہری معائنوں اور بحری ناکہ بندی کے خاتمے کی تجویز

ایران امریکا تنازع ختم کرانے کے لیے قطر کا نیا سفارتی فارمولا، جوہری معائنوں اور بحری ناکہ بندی کے خاتمے کی تجویز

دوحہ: قطر نے ایران اور امریکا کے درمیان جاری تنازع کے خاتمے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے نیا سفارتی فارمولا پیش کردیا ہے، جس کے تحت ایران کو اپنی جوہری تنصیبات تک اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کو رسائی دینے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

برطانوی اخبار دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق قطری تجویز میں امریکی حملوں سے متاثر ہونے والی ایرانی جوہری تنصیبات کے معائنے کی اجازت دینے پر بھی زور دیا گیا ہے۔ اس منصوبے پر پیش رفت سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق مجوزہ فارمولے کے تحت امریکا فوری طور پر ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کرے گا، جبکہ ایران کے منجمد 8 ارب ڈالر کے اثاثوں میں سے کچھ رقم جاری کرنے پر بھی غور کیا جاسکتا ہے۔

قطری منصوبے میں ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو ملک سے باہر منتقل کرنے کی شرط شامل نہیں، تاہم یورینیم کی افزودگی کی سطح کم کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔

دوسری جانب ایرانی جوہری تنصیبات تک اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کی رسائی پر تاحال اتفاق نہیں ہوسکا۔ ایران کو خدشہ ہے کہ معائنے کے دوران حاصل ہونے والی حساس معلومات امریکا اور اسرائیل تک پہنچ سکتی ہیں۔

قطر کی اس سفارتی کوشش کا مقصد فریقین کے درمیان مذاکرات کی راہ ہموار کرنا اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے قابل عمل حل تلاش کرنا ہے۔

More News