پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں ریکارڈ اضافہ

پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں ریکارڈ اضافہ، مجموعی ذخائر 26.846 ارب ڈالر کی سطح پر پہنچ گئے

ایک ہفتے کے دوران زرمبادلہ کے ذخائر میں 11 کروڑ ڈالر کا اضافہ ریکارڈ، فروری 2026 سے اب تک اسٹیٹ بینک کے ذخائر 5 ارب ڈالر بڑھ گئے

اسلام آباد: پاکستان کے زرمبادلہ کے مجموعی ذخائر میں ایک ہفتے کے دوران نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد ملکی زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 26 ارب 84 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کی سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ایک ہفتے کے دوران مجموعی ذخائر میں 11 کروڑ ڈالر کا اضافہ ہوا، جسے ملکی معیشت کے لیے مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق گزشتہ ہفتے پاکستان کے مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر 26 ارب 75 کروڑ 40 لاکھ ڈالر تھے، جو حالیہ اضافے کے بعد 26 ارب 84 کروڑ 60 لاکھ ڈالر ہوگئے ہیں۔ اس دوران مرکزی بینک کے اپنے ذخائر میں بھی 3 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ کمرشل بینکوں کے زرمبادلہ ذخائر میں بھی بہتری دیکھنے میں آئی۔

مرکزی بینک کے مطابق فروری 2026 میں مغربی ایشیا میں تنازع شروع ہونے کے بعد سے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں مجموعی طور پر 5 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔ فروری میں اسٹیٹ بینک کے اپنے ذخائر 16 ارب 56 کروڑ 80 لاکھ ڈالر تھے، جو 30 اکتوبر تک بڑھ کر 21 ارب 56 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کی سطح پر پہنچ گئے۔

اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری سے پاکستانی روپے کی قدر مستحکم رکھنے میں مدد ملی ہے۔ اس کے علاوہ برآمد کنندگان کا اعتماد بھی بہتر ہوا ہے اور انہیں اپنی برآمدی آمدن بروقت پاکستان منتقل کرنے کے حوالے سے سہولت میسر آئی ہے۔

دوسری جانب زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کے باوجود پاکستان کو تجارتی خسارے کا سامنا ہے۔ مالی سال 2027 کے ابتدائی چار ماہ کے دوران ملک کا تجارتی خسارہ 14 ارب 60 کروڑ ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔ اس عرصے میں پاکستان کی مجموعی درآمدات 26 ارب ڈالر جبکہ برآمدات کا حجم 11 ارب 40 کروڑ ڈالر رہا۔

مالیاتی تجزیہ کاروں کے مطابق زرمبادلہ کی دستیابی اور پاکستانی روپے کے استحکام میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر میں اضافہ اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق زرمبادلہ کے ذخائر میں مسلسل بہتری ملکی معیشت کے لیے حوصلہ افزا ہے، تاہم تجارتی خسارے میں کمی، برآمدات میں اضافے اور درآمدات پر انحصار کم کرنے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت برقرار ہے۔

More News