مریم نواز کا بڑا فیصلہ، امتحانات ملتوی کرنے پر ڈپٹی کمشنر جہلم عہدے سے فارغ
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اپنے متوقع دورۂ جہلم کے باعث انٹرمیڈیٹ کے امتحانات ملتوی کرنے کے معاملے پر ڈپٹی کمشنر جہلم میر رضا اوزگن کو فوری طور پر عہدے سے ہٹانے کا حکم دے دیا۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا 10 نومبر کو جہلم اور پنڈ دادن خان کا دورہ متوقع ہے، جس کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ نے راولپنڈی بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کو امتحانات کے شیڈول میں تبدیلی کی سفارش کی تھی۔
ڈپٹی کمشنر جہلم کی سفارش پر انٹرمیڈیٹ سیکنڈ اینول امتحانات 2026 کے کمپیوٹر سائنس کے پرچے، جو 10 نومبر کو منعقد ہونا تھے، ضلع جہلم میں ملتوی کرکے 30 نومبر کو مقرر کر دیے گئے تھے۔ یہ فیصلہ صبح اور شام دونوں گروپس کے طلبہ کے لیے کیا گیا تھا۔
ضلعی انتظامیہ نے اپنے خط میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ وزیراعلیٰ کے دورے کے دوران انتظامی، سکیورٹی اور پروٹوکول ڈیوٹی پر عملے کی تعیناتی کے باعث امتحانات کا بلاتعطل انعقاد ممکن نہیں ہوگا۔
تاہم امتحانات ملتوی ہونے کا معاملہ سامنے آنے پر وزیراعلیٰ مریم نواز نے سخت برہمی کا اظہار کیا اور سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے واضح ہدایات جاری کر رکھی ہیں کہ ضلعی دوروں کے دوران عوام کو کسی قسم کی پریشانی یا مشکلات کا سامنا نہیں ہونا چاہیے، لیکن ڈپٹی کمشنر نے ان ہدایات کو نظرانداز کیا۔
مریم نواز نے ڈپٹی کمشنر جہلم کو فوری طور پر عہدے سے ہٹانے کا حکم دیا، جس کے بعد ان کی تقرری اور تبادلے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا۔ میر رضا اوزگن کو پنجاب کے محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن میں مزید احکامات کے لیے رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے مزید اعلان کیا کہ جہلم میں کمپیوٹر سائنس کے ملتوی شدہ پرچے اب اپنے اصل شیڈول کے مطابق 10 نومبر کو ہی منعقد ہوں گے۔
انہوں نے تمام کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور پولیس افسران کو ہدایت کی کہ ان کے سرکاری دوروں کے باعث بازار، دکانیں اور کاروباری مراکز بند نہ کیے جائیں، نہ ہی رہائشی علاقوں میں آمدورفت محدود کی جائے۔ سکیورٹی انتظامات اس انداز میں کیے جائیں کہ عام شہریوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
اس واقعے کے بعد سرکاری دوروں کے انتظامات اور طلبہ کے تعلیمی معاملات کو ترجیح دینے سے متعلق انتظامیہ کی ذمہ داریوں پر بحث شروع ہوگئی ہے۔








