تیرا سالہ دورِ حکومت میں پی ٹی آئی نے کرپشن اور لوٹ مار کی، امیر مقام
وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے پاکستان تحریک انصاف کی خیبرپختونخوا میں سابقہ حکومتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ پی ٹی آئی نے اپنے 13 سالہ دورِ حکومت میں کرپشن اور لوٹ مار کی۔
امیر مقام کا کہنا تھا کہ صوبے میں طویل عرصے تک اقتدار میں رہنے کے باوجود عوام کے بنیادی مسائل حل نہیں کیے گئے۔ عوام کو ترقی، خوشحالی اور بہتر طرز حکمرانی کے جو وعدے کیے گئے تھے، ان پر عمل درآمد کے حوالے سے کئی سوالات موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سرکاری وسائل عوام کی امانت ہوتے ہیں اور حکمرانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان وسائل کو عوامی فلاح و بہبود کے لیے استعمال کریں۔ قومی خزانے سے مختص ہونے والے ترقیاتی فنڈز کا درست استعمال اور ان کا شفاف حساب کتاب ضروری ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ سابقہ حکومتوں سے ان کے دورِ اقتدار میں کیے گئے اقدامات اور اخراجات کے بارے میں سوال کریں۔ ترقیاتی منصوبوں کے نام پر مختص ہونے والی رقوم کے استعمال میں شفافیت ہونی چاہیے اور اگر کسی قسم کی مالی بے ضابطگی سامنے آئے تو اس کی تحقیقات کی جانی چاہئیں۔
امیر مقام کا کہنا تھا کہ اب عوامی وسائل کے تحفظ اور سرکاری اداروں میں جوابدہی کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ کسی بھی سیاسی جماعت یا شخصیت کو احتساب سے بالاتر نہیں ہونا چاہیے اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا کو اس وقت امن و امان، معاشی ترقی، روزگار، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔ صوبے کے وسائل عوام کی زندگیوں میں بہتری لانے کے لیے خرچ ہونے چاہئیں۔
امیر مقام نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوامی وسائل کے تحفظ، شفافیت اور احتساب کے ذریعے عوامی اعتماد بحال کرنے کی ضرورت ہے۔







