شانگلہ: شہید کانسٹیبل قیموس خان کی نمازِ جنازہ سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا، آبائی علاقے میں سپردِ خاک
شانگلہ پولیس کے شہید کانسٹیبل قیموس خان کی نمازِ جنازہ تھانہ چکیسر میں سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کردی گئی، جس کے بعد انہیں ان کے آبائی علاقے مانگا کھنڈاؤں، چکیسر میں پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کردیا گیا۔ پولیس کے چاق و چوبند دستے نے شہید کی قبر پر سلامی پیش کی جبکہ پولیس افسران نے پھولوں کی چادر چڑھا کر انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔
نمازِ جنازہ میں ڈی پی او شانگلہ اکرام اللہ (پی ایس پی)، ایس پی ہیڈ کوارٹر محمد بشر خان، ایس ڈی پی او الپوری احسان اللہ، ایس ڈی پی او بشام عثمان منیر، اسسٹنٹ کمشنر چکیسر، تحصیلدار چکیسر، مختلف تھانوں کے ایس ایچ اوز، علاقہ معززین اور پولیس افسران و جوانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
پولیس کے مطابق شہید کانسٹیبل قیموس خان اپنے آبائی گاؤں سے ڈیوٹی کے سلسلے میں تھانہ مارتونگ جا رہے تھے۔ وہ گھر سے موٹر سائیکل پر روانہ ہوئے اور جیسے ہی موٹر سائیکل اسٹارٹ کی تو پہلے سے نصب بارودی مواد دھماکے سے پھٹ گیا، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی شہید ہوگئے۔
واقعے کے بعد پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ اینڈ اسٹرائیک آپریشن شروع کردیا۔ پولیس حکام کے مطابق دھماکے میں ملوث عناصر کی تلاش کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں، جبکہ علاقے میں سکیورٹی اقدامات بھی مزید سخت کردیے گئے ہیں۔
شہید کانسٹیبل قیموس خان کی نمازِ جنازہ اور تدفین میں پولیس افسران اور اہلکاروں کی بڑی تعداد کی شرکت اس بات کا اظہار ہے کہ محکمہ پولیس اپنے شہداء کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ ان کی شہادت کے بعد علاقے میں سوگ کی فضا ہے۔
پولیس حکام نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ واقعے میں ملوث عناصر کو تلاش کرکے قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔








