عدالتی حکم کے باوجود صوبائی وزیر مینا خان آفریدی کو بیرون ملک جانے سے روک دیا گیا
پشاور:کا شف عارف
خیبرپختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم و بلدیات مینا خان آفریدی کو پشاور کے باچا خان انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بیرون ملک سفر سے روک دیا گیا، جس کے بعد معاملہ قانونی اور سیاسی حلقوں میں موضوعِ بحث بن گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق مینا خان آفریدی جرمنی میں ایک یونیورسٹی کی تقریب میں شرکت کے لیے روانہ ہو رہے تھے۔ ان کی پرواز کا شیڈول پشاور سے ابوظہبی اور وہاں سے جرمنی جانے کا تھا، تاہم ایف آئی اے حکام نے انہیں امیگریشن کلیئرنس سے قبل ہی روک دیا۔
صوبائی وزیر کو اس وقت سفر سے روکا گیا جب وہ باقاعدہ سفری دستاویزات کے ساتھ بیرون ملک روانگی کے مراحل مکمل کر رہے تھے۔ ایف آئی اے کی جانب سے انہیں بیرون ملک جانے کی اجازت نہ دی گئی جس کے باعث وہ اپنی طے شدہ پرواز پر سفر نہ کر سکے۔
مینا خان آفریدی نے اس اقدام پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں پشاور ہائی کورٹ کے واضح حکم کے باوجود روکا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی تھی کہ انہیں بیرون ملک سفر سے نہ روکا جائے، اس کے باوجود ایئرپورٹ پر ایف آئی اے اہلکاروں نے عدالتی حکم کو نظرانداز کرتے ہوئے انہیں سفر کی اجازت نہیں دی۔
واضح رہے کہ مینا خان آفریدی نے اپنا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ECL) سے نکالنے کے لیے پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ عدالت نے درخواست پر سماعت کے بعد متعلقہ اداروں کو حکم دیا تھا کہ درخواست گزار کو بیرون ملک سفر سے نہ روکا جائے اور قانونی تقاضوں کے مطابق سہولت فراہم کی جائے۔
ایئرپورٹ پر پیش آنے والے واقعے کے بعد مینا خان آفریدی نے ایف آئی اے حکام کے خلاف توہینِ عدالت کی درخواست دائر کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہیں کیا جاتا تو یہ قانون کی حکمرانی اور عدالتی فیصلوں کی عملداری پر سوالیہ نشان ہے۔
دوسری جانب اس معاملے پر ایف آئی اے کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی کہ صوبائی وزیر کو کس بنیاد پر بیرون ملک سفر سے روکا گیا۔ قانونی ماہرین کے مطابق اگر عدالتی احکامات موجود تھے تو متعلقہ اداروں کی جانب سے اس پر عملدرآمد نہ کرنے کی وجوہات سامنے آنا ضروری ہیں۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب صوبائی وزیر جرمنی کی ایک تعلیمی تقریب میں شرکت کے لیے روانہ ہو رہے تھے، جس کے باعث نہ صرف ان کا سرکاری دورہ متاثر ہوا بلکہ عدالتی احکامات پر عملدرآمد سے متعلق بھی نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔








